بم ڈسپوزل یونٹ خیبرپختونخوا نے رواں سال کے دوران برآمد اور ناکارہ بنائے گئے دھماکہ خیز مواد سے متعلق سالانہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔ دستاویز کے مطابق صوبے میں سیکیورٹی اداروں نے متعدد بم، دستی بم اور دیگر دھماکہ خیز مواد ناکارہ بنایا۔

 

رپورٹ کے مطابق رواں سال صوبے بھر میں 35 آئی ای ڈیز ناکارہ بنائی گئیں، جبکہ 72 آئی ای ڈیز دھماکوں میں استعمال ہوئیں۔ اسی طرح 247 دستی بم ناکارہ بنائے گئے، جبکہ 133 دستی بم دھماکوں میں پھٹے۔

 

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ 70 راکٹ شیلز ناکارہ بنائے گئے جبکہ 68 راکٹ شیلز دھماکوں میں استعمال ہوئے۔ اس کے علاوہ 7 بارودی سرنگیں ناکارہ بنائی گئیں جبکہ 2 بارودی سرنگوں کے دھماکے رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق ایک خودکش جیکٹ ناکارہ بنائی گئی، جبکہ 11 خودکش دھماکے بھی رپورٹ ہوئے۔

 

ضلع پشاور میں 7 آئی ای ڈیز ناکارہ بنائی گئیں، 2 دھماکے ہوئے اور 16 دستی بم ناکارہ بنائے گئے۔ پشاور میں 21 دستی بم دھماکوں میں استعمال ہونے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

 

بنوں میں 12 آئی ای ڈیز ناکارہ بنائی گئیں جبکہ 31 آئی ای ڈی دھماکے رپورٹ ہوئے۔ اسی ضلع میں 41 دستی بم ناکارہ بنائے گئے اور 14 راکٹ شیل دھماکے پیش آئے۔

 

باجوڑ میں 14 آئی ای ڈی دھماکے رپورٹ ہوئے جبکہ 29 دستی بم ناکارہ بنائے گئے۔ دستاویز کے مطابق باجوڑ میں 9 دستی بم اور 17 راکٹ شیل دھماکے بھی ہوئے۔

 

ڈی آئی خان میں 28 دستی بم ناکارہ بنائے گئے، جبکہ کوہاٹ میں 24 دستی بم اور 8 راکٹ شیل دھماکے رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق مردان میں ایک خودکش دھماکے سمیت مجموعی طور پر تین دھماکے ریکارڈ کئے گئے۔

 

بم ڈسپوزل یونٹ کے مطابق دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے کے لیے کارروائیاں مسلسل جاری ہیں تاکہ عوامی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔