گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبہ کسی بھی قسم کی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا، اس لیے سیاستدانوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر جیلوں میں قید افراد باہر آکر احتجاج کی کوشش کریں گے تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا، کیونکہ عدالتیں موجود ہیں اور ہر شہری کو قانونی راستہ اپنانے کی آزادی حاصل ہے۔

 

گورنر نے کہا کہ گالم گلوچ اور محاذ آرائی سے صوبے کے حقوق حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ پہلے احتجاج کے ذریعے کچھ حاصل نہیں کر سکے، وہ اب صرف کارکنوں کو متحرک رکھنے کے لیے باتیں کر رہے ہیں۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے مذاکرات کی پیشکش کر کے سیاسی بالغ نظری کا ثبوت دیا ہے، جبکہ ماضی میں بھی آصف علی زرداری نے تمام سیاسی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی کوشش کی تھی، مگر اس کے جواب میں 9 مئی جیسے افسوسناک واقعات سامنے آئے۔

 

انہوں نے راجہ ناصر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اڈیالہ جیل کے باہر کربلا نہیں بنی ہوئی، اصل مسائل کرم میں ہیں اور انہیں وہاں جا کر حالات سنبھالنے چاہئیں۔ گورنر نے واضح کیا کہ کوئی بھی قیدی سزا پوری کیے بغیر رہا نہیں ہو سکتا اور پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ متعلقہ قیدی کو کسی اور جگہ منتقل کیا جائے۔

 

امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ جہاں بھی ریاستی رِٹ کو چیلنج کیا گیا وہاں انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اور کراچی میں بھی بھتہ خوروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ جب بھارت کو چار دن میں جواب دیا جا سکتا ہے تو چند دہشت گردوں سے نمٹنا بھی کوئی مشکل کام نہیں۔