پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آل پاکستان جویلرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونا 10 ہزار 700 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 54 ہزار 262 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح دس گرام سونا بھی 9 ہزار 174 روپے مہنگا ہو کر 3 لاکھ 89 ہزار 456 روپے کا ہو گیا ہے۔

 

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ سونے کی کھپت 60 سے 90 ٹن کے درمیان ہے جس کی مالیت 8 سے 12 ارب ڈالر بنتی ہے۔ اس کے باوجود ملک میں 90 فیصد سے زائد سونے کا کاروبار غیر دستاویزی ہے۔

 

سی سی پی کی تحقیقاتی رپورٹ ’’پاکستان کی سونے کی مارکیٹ‘‘ کے مطابق ملک میں 70 فیصد سونے کی طلب شادیوں اور تقریبات سے جڑی ہوتی ہے۔ پاکستان درآمدات پر بھی انحصار کرتا ہے اور مالی سال 2024 میں 1 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا سونا درآمد کیا گیا۔

 

رپورٹ کے مطابق ملک کے سرکاری سونے کے ذخائر 2025 کے آخر تک 64.76 ٹن ریکارڈ کیے گئے جن کی مالیت تقریباً 9 ارب ڈالر ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ ریکو ڈیک منصوبہ آئندہ 37 سال میں 74 ارب ڈالر تک کی آمدنی پیدا کر سکتا ہے، جبکہ موجودہ قیمتوں کے مطابق اس منصوبے سے 1 کروڑ 79 لاکھ اونس سونا حاصل ہوگا جس کی مالیت تقریباً 54 ارب ڈالر بنتی ہے۔