پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر بار بار لگنے والی پابندیوں نے ادویات کی برآمدات کو شدید متاثر کیا ہے۔ سینکڑوں ٹرک کئی دنوں سے طورخم اور چمن بارڈر پر کھڑے ہیں، اور 200 ملین ڈالر مالیت کی ادویات بروقت آگے نہیں جا رہیں۔

 

 جن ادویات کو ٹھنڈا ماحول چاہیے، وہ دیر سے پہنچنے کے باعث خراب ہونا شروع ہو گئی ہیں، جس سے کمپنیوں کو بڑا مالی نقصان ہو رہا ہے۔

 

پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے نمائندے توقیرالحق کے مطابق افغانستان کے لیے تقریباً تمام ادویات کی سپلائی رک گئی ہے۔ اینٹی بائیوٹکس، انسولین، ویکسین اور دل کے امراض کی ادویات سے بھرے کنٹینرز مختلف سرحدی مقامات اور گوداموں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

 

ذرائع کے مطابق صرف ایک کمپنی کی 85 کروڑ روپے کی ادویات بارڈر پر رکی ہیں، جبکہ درجنوں دوسری کمپنیاں بھی اسی صورتِ حال کا سامنا کر رہی ہیں۔

 

کاروباری ماہرین کہتے ہیں کہ افغانستان نہ صرف پاکستان کا اہم تجارتی شراکت دار ہے، بلکہ وسطی ایشیا تک تجارت کا بڑا راستہ بھی اسی سرحد سے گزرتا ہے۔

 اس لیے سرحد بند ہونے سے نہ صرف دوطرفہ تجارت متاثر ہوتی ہے بلکہ پورے خطے کی ٹرانزٹ تجارت کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔