محمد انس

 

یونیورسٹی آف ملاکنڈ کی پچیسویں سالگرہ کے موقع پر تین روزہ رنگا رنگ تقریبات کا انعقاد کیا گیا، جن میں گلِ داؤدی کی نمائش، سٹالز، پشتو مشاعرہ تھا۔ یہ تمام سرگرمیاں یونیورسٹی انتظامیہ کی منظوری سے باضابطہ طور پر منعقد ہو رہی تھیں، جن میں طلباء نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ تاہم پروگرام کے دوران اس وقت صورتحال نے نیا رخ اختیار کیا جب پولیٹیکل سائنس ڈپارٹمنٹ کے لیکچرر ساجد خان محسود نے روایتی اتنڑ میں حصہ لیا اور ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔


شروع میں یہ ویڈیو یونیورسٹی کے طلباء اور شہریوں کی جانب سے مثبت ردعمل کا سبب بنی، لیکن صورتحال اس وقت تنقید کی شکل اختیار کر گئی جب مذہبی جماعتوں اور چند افراد نے اس عمل کو یونیورسٹی کی "اخلاقی حدود" سے جوڑ کر سوشل میڈیا پر اعتراضات اٹھانے شروع کئے۔ سب سے پہلے عطا الرحمان نامی سوشل میڈیا صارف نے ساجد محسود کی شناخت اور ان کے شعبے کا نام واضح کرتے ہوئے شدید تنقید کی، جس کے بعد مختلف پیجز اور افراد نے اس ویڈیو کو اپنے اپنے بیانیے کے مطابق پھیلایا۔

 

ٹی این این سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے لیکچرر ساجد خان محسود نے کہا کہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد جہاں بہت سے لوگوں نے اسے ایک خوشگوار اور ثقافتی لمحے کے طور پر سراہا، وہی کچھ افراد نے اس واقعے کو بلاوجہ سیاسی رنگ دینا شروع کر دیا جس پر انہیں افسوس ہوا۔

 

 ان کا کہنا تھا کہ اتنڑ پشتون ثقافت کا ایک معتبر حصہ ہے اور وہ خود بھی بحیثیت پشتون اس روایت سے جذباتی وابستگی رکھتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کوئی غیر رسمی یا خفیہ سرگرمی نہیں تھی بلکہ یونیورسٹی کا باقاعدہ سرکاری پروگرام تھا جس کی اجازت، نگرانی اور انتظام مکمل طور پر یونیورسٹی انتظامیہ کے پاس تھا۔

 

 “پروگرام میں حجرے کی طرز پر سیٹ اپ بنایا گیا تھا، رباب، تمبل اور دیگر روایتی آلات رکھے گئے تھے، طلباء، اساتذہ اور مہمان سب اس ماحول سے لطف اندوز ہو رہے تھے،” ساجد محسود نے کہا۔

 

 ان کے مطابق انہوں نے نہ کسی ضابطے کی خلاف ورزی کی اور نہ کسی ایسی سرگرمی میں حصہ لیا جسے یونیورسٹی قوانین کے مطابق قابلِ اعتراض سمجھا جائے۔ تاہم انہیں سب سے زیادہ دکھ اس وقت ہوا جب کچھ افراد نے محض اختلافِ رائے کا اظہار کرنے کی بجائے ان کا نام، ڈیپارٹمنٹ اور یونیورسٹی کو نشانہ بنایا، اور اس تنقید کو اس سطح تک لے گئے جس کا نہ اخلاقی جواز تھا اور نہ ہی ثقافتی بنیاد۔

 

 انہوں نے کہا کہ تنقید ہر ایک کا حق ہے مگر تنقید کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں، اور کسی کی پیشہ ورانہ شناخت کو متنازع بنا کر اس کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا درست عمل نہیں۔


اس معاملے پر اسلامی جمعیتِ طلبہ جامعہ ملاکنڈ نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے اپنے آفیشل پیج پر لکھا کہ “ہم یونیورسٹی کے فاؤنڈیشن ویک اور غیر نصابی سرگرمیوں کا خیر مقدم کرتے ہیں، مگر انتظامی کمزوریوں کے باعث مخلوط اور غیرمہذب سرگرمیاں قابلِ مذمت ہیں۔ یونیورسٹی اسلام پسندوں کی سرزمین میں واقع ہے، جہاں حیاء، پردہ، حجرہ اور مسجد ہماری بنیادی روایات ہیں۔ انتظامیہ مستقبل میں ایسی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کرے۔”
 

تنظیم کے مطابق اس سلسلے میں ان کا وفد یونیورسٹی انتظامیہ سے ملاقات بھی کر چکا ہے۔

 

دوسری جانب یونیورسٹی کے زیادہ تر طلباء، سابق طلباء، اور مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان نے ساجد خان محسود کی حمایت کی اور ویڈیو کو ثقافتی اظہار قرار دیا۔ طلباء کا کہنا ہے کہ اتنڑ پشتون کلچر کا ایک قابلِ احترام حصہ ہے، جسے غلط رنگ دینا غیر مناسب رویہ ہے۔


اظہار خان، رہنما عوامی نیشنل پارٹی اور سابق امیدوار برائے صوبائی اسمبلی، کا کہنا ہے کہ اس وقت دو طرح کے لوگ آمنے سامنے ہیں: ایک وہ جو دلیل کو سننے اور تنقید کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، اور دوسرے وہ جو امن، زندگی، برداشت اور عقلیت کے قائل ہیں۔

 

 وہ کہتے ہیں کہ دنیا کی ہر قوم کا اپنا کلچر اور اپنی روایات ہوتی ہیں، اور پشتون ثقافت میں اتنڑ ایک تاریخی، روحانی اور جسمانی ایکسرسائز کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق پشتون معاشرے میں کبھی وہ انتہاپسندی نہیں تھی جسے اب چند حلقے فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 

 اظہار خان کا کہنا تھا کہ ایسے ثقافتی پروگرامز دوبارہ اور بار بار منعقد ہونے چاہئیں، کیونکہ یہی صحت مند سرگرمیاں انتہاپسندی کے خاتمے کا راستہ ہموار کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیکچرر ساجد خان محسود کا اتنڑ کرنا نہ صرف ایک مثبت قدم ہے بلکہ اس نے یہ پیغام بھی دیا ہے کہ ثقافت سے جڑنا کوئی جرم نہیں بلکہ فخر کی بات ہے۔


قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے پی ایچ ڈی اسکالر اور لیبر آفیسر مختار علی یوسفزئی نے بھی اس معاملے پر اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہا  “پاکستان کی تمام بڑی یونیورسٹیوں میں کلچرل پروگرامز معمول کی بات ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی میں تو موسیقی اور اتنڑ چائے جیسی عام چیز ہے۔ اتنڑ سے جسم کو سکون ملتا ہے، یہ ایک تاریخی اور روحانی سرگرمی ہے۔ میں نے خود بھی اتنڑ کیا ہے، اسے منفی تناظر میں لینا غیر منصفانہ ہے۔”


سوشل میڈیا پر جاری بحث میں ایک طبقہ اسے "استاد کے وقار" سے جوڑ رہا ہے جبکہ دوسرا طبقہ اس دلیل کو رد کرتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ استاد بھی ایک انسان ہے جسے ثقافتی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا حق ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مخلوط پروگرام یونیورسٹی کی روایات کے خلاف ہے، جبکہ حمایتی مؤقف رکھتے ہیں کہ یونیورسٹیاں سماجی و ثقافتی ہم آہنگی کا مرکز ہوتی ہیں جہاں رواداری اور برداشت کی تعلیم دی جاتی ہے۔


یونیورسٹی انتظامیہ نے تاحال کوئی باقاعدہ پریس ریلیز جاری نہیں کی، تاہم ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے اسلامی جمعیتِ طلبہ کے وفد کو یقین دہانی کرائی ہے کہ مستقبل میں ایسے پروگراموں میں انتظامی بہتری لائی جائے گی۔ اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ ملاکنڈ کا تعلیمی ماحول سماجی روایات، مذہبی حساسیت اور ثقافتی اظہار کے درمیان ایک مسلسل تجربہ گاہ بنا ہوا ہے اور ایک چھوٹی سی ویڈیو بھی یہاں بڑے مباحث کو جنم دے سکتی ہے۔

ڈیجیٹل میڈیا کوآرڈینیٹر جمعیت علمائے اسلام لوئر دیر، عمیر احمد یوسفزئی نے جاری بیان میں ملاکنڈ یونیورسٹی میں منعقد ہونے والی موسیقی اور رقص کی سرگرمیوں کو اسلامی اقدار اور دینی حمیت کے منافی قرار دیا ہے۔

 

 ان کا کہنا ہے کہ ایک مقدس علمی مرکز میں اس نوعیت کی مخلوط تقاریب قومی غیرت اور روایتی اقدار کے خلاف ہیں، جنہیں کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اسی تناظر میں جمعیت علمائے اسلام نے 8 دسمبر بروز پیر دوپہر 2 گل آباد  میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے، جس میں اس معاملے پر مشاورت اور لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ پارٹی کی جانب سے تمام مذہبی رہنماؤں، سماجی شخصیات اور سیاسی مشران سے اس کانفرنس میں بھرپور شرکت کی اپیل بھی کی گئی ہے۔

 

یاد رہے کہ اتنڑ بنیادی طور پر پشتون ثقافت کا قدیم روایتی رقص ہے جو خوشی، اتحاد اور اجتماعی اظہار کا نشان سمجھا جاتا ہے۔ شادیوں، تہواروں اور مقامی میلوں میں یہ رقص اجتماعی دائرہ بنا کر کیا جاتا ہے، جس میں ہاتھ پکڑ کر مخصوص قدموں کی حرکات کے ذریعے ایک ہم آہنگ دائرہ بن جاتا ہے۔ پشتون کلچر میں اسے گاؤں، حجرے اور میلوں کا لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے۔