خیبرپختونخوا امن جرگہ نے صوبائی خودمختاری، امن، اور معاشی حقوق سے متعلق 15 نکاتی اعلامیہ جاری کیا ہے، جس میں وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان ہم آہنگی، صوبے کے وسائل کے تحفظ اور عوامی شمولیت پر زور دیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق وفاق اور صوبائی حکومت اپنی عملداری صوبے کے تمام علاقوں میں یقینی بنائیں، جبکہ ایکشن اِن ایڈ آف سول پاور ریگولیشن جیسے متنازع قوانین کے خلاف صوبائی اسمبلی کی قراردادوں پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔
جرگے نے مطالبہ کیا کہ داخلی سیکیورٹی کی ذمہ داری پولیس اور سی ٹی ڈی کے سپرد کی جائے، اور کسی بھی آپریشن سے قبل صوبائی اسمبلی کو اعتماد میں لیا جائے۔
اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صوبائی اسمبلی کو ان کیمرہ سیشن میں سیکیورٹی بریفنگ دی جائے اور صوبائی حکومت ایک جامع صوبائی ایکشن پلان تشکیل دے۔ امن جرگے نے پاک افغان بارڈر کے تمام تاریخی تجارتی راستے کھولنے، پاک افغان خارجہ پالیسی میں صوبے کو شامل کرنے، اور وفاقی و صوبائی حکومت کے درمیان تناؤ کم کرنے پر بھی زور دیا۔
اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کئے جائیں، صوبے کے آئینی مالی حقوق پر عملدرآمد کیا جائے، اور مقامی حکومتوں کو آئینی طور پر مضبوط بنا کر این ایف سی ایوارڈ سے منسلک کیا جائے۔
جرگے نے بھتہ خوری کے خاتمے اور دہشتگردوں کے مالی ذرائع منقطع کرنے کے لیے سخت اقدامات کی سفارش کی اور صوبائی سطح پر امن فورمز کے قیام کی تجویز دی تاکہ پائیدار امن اور ترقی کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جا سکیں۔
