پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع گھوٹکی سے تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع چھوٹا سا گاؤں فتو شاہ، ایک پراسرار اور دکھ بھری جگہ کے باعث جانا جاتا ہے ۔ ایک سنسان قطعہ زمین جسے مقامی لوگ ’’بے عزت عورتوں کا قبرستان‘‘ کہتے ہیں۔ گھوٹکی سے فتو شاہ تک کی تنگ سڑک کپاس کے کھیتوں کے بیچوں بیچ سے گزرتی ہے۔

 

 رپورٹ کے مطابق تحقیقی ماہر عائشہ دھاریجو گزشتہ 15 برس سے اس جگہ پر تحقیق کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’یہ قبرستان اُن عورتوں کا ہے جنہیں خاموش کر دیا گیا۔ ہر قبر ایک کہانی ہے، ظلم اور بے حسی کی کہانی۔‘‘ دھاریجو کے مطابق غیرت کے نام پر قتل ہونے والے افراد کو، چاہے مرد ہوں یا عورتیں، موت کے بعد بھی عزت نہیں دی جاتی۔ نہ انہیں غسل دیا جاتا ہے، نہ کفن پہنایا جاتا ہے، نہ نماز جنازہ ادا کی جاتی ہے۔ لاشیں عموما گڑھوں میں پھینک دی جاتی ہیں اور اوپر ہلکی مٹی ڈال دی جاتی ہے تاکہ جانور قریب نہ آئیں۔

 

رپورٹ  میں بتایا گیا ہے کہ اس قبرستان میں کوئی باقاعدہ قبریں نہیں۔ چند مقامات پر ٹوٹی ہوئی اینٹیں زمین میں دھنسی دکھائی دیتی ہیں، جبکہ زیادہ تر جگہیں بالکل بے نشانی ہیں ۔ قریبی مرکزی قبرستان سے بالکل مختلف منظر۔

 

مقامی سماجی کارکن زرقا شار کے مطابق ’’یہ کاریوں کا قبرستان ایک صدی سے زیادہ پرانا ہے۔‘‘ وہ بتاتی ہیں کہ آج بھی اس علاقے پر جاگیرداروں اور زمینداروں کا غلبہ ہے جو عام لوگوں کی روزی، اجرت اور بقا کو کنٹرول کرتے ہیں۔ شار کے بقول، ’’ایسے نظام میں مقامی رسم و رواج قانون پر غالب آ جاتے ہیں اور غیرت کے نام پر قتل جیسے موضوع پر بات کرنا بھی خطرے سے خالی نہیں۔‘‘

 

غیرت کے نام پر قتل کی سماجی بنیاد

 

رپورٹ میں موجود تحقیقات کے مطابق غیرت کے نام پر قتل کی وجہ عموماً وہ "بدنامی" ہوتی ہے جو خاندان کے افراد اپنے کسی رشتہ دار، بالخصوص عورت کے عمل سے محسوس کرتے ہیں۔ شادی کا انتخاب خود کرنا، مخالف جنس سے بات چیت، ذات یا مذہب سے باہر شادی، یا سماجی روایات سے انحراف ، یہ سب ایسے ’’جرائم‘‘ ہیں جو بعض دیہی علاقوں میں موت کا سبب بن جاتے ہیں۔

 

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق، 2024 میں کم از کم 405 افراد غیرت کے نام پر قتل ہوئے، جن میں سب سے زیادہ واقعات سندھ اور پنجاب میں رپورٹ ہوئے۔ ماہرین کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ ایسے جرائم اکثر رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔

 

عائشہ دھاریجو کہتی ہیں، ’’غیرت کے نام پر قتل کا روایات سے کوئی تعلق نہیں، یہ محض طاقت، جائیداد اور مردانہ اختیار کے کھیل ہیں۔‘‘ ان کے بقول اکثر خاندانوں یا قبائلی جرگوں کے درمیان تصفیوں میں خواتین کی لاشیں ’’کرنسی‘‘ بن جاتی ہیں۔ ایسے قتل جائیداد کے تنازعات یا انتقامی دشمنیوں کو چھپانے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

 

’’اس نے میری چلنے کی طاقت چھین لی‘‘

 

ان مظلوم خواتین میں سے ایک صوبیہ بتول شاہ بھی ہیں۔ محض 22 سال کی عمر میں ان کے والد اور دیگر چھ رشتہ دار ان پر حملہ آور ہوئے۔ الزام تھا کہ اس نے شوہر سے طلاق لے کر خاندان کی عزت خاک میں ملا دی۔ ایک نے کلہاڑی سے ان کی ٹانگیں کاٹ ڈالیں۔


صوبیہ بتول کہتی ہیں، ’’میں وہ دن نہیں بھول سکتی۔ انہوں نے مجھے زندہ تو چھوڑا مگر معذور کر دیا۔‘‘ چار آپریشن ہو چکے ہیں، وہ اب بھی بیساکھی کے سہارے چلتی ہیں، مگر عدالتی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جب وہ عدالت میں سماعت سننے جاتی ہیں تو ان کا بھائی انہیں اپنے کندھوں پر اٹھا کر اوپر لے جاتا ہے۔ والد جیل میں ہیں، لیکن دیگر ملزمان کے خلاف قانونی جدوجہد اب بھی جاری ہے۔

 

’’وہ جائیداد کے لیے کچھ بھی کر سکتا تھا‘‘

 

حلیمہ بھٹو کی کہانی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ صرف 12 سال کی عمر میں ان کی شادی ہوئی۔ شوہر شکیل احمد نے شادی کے بعد اس سے والد کی چھوڑی ہوئی زمین مانگی۔ انکار پر حلیمہ کو میکے بھیج دیا گیا، جہاں وہ 18 برس تک رہیں۔

 

پھر ایک دن شوہر نے جھوٹا الزام لگایا کہ حلیمہ کا بہنوئی سے ناجائز تعلق ہے ۔ ایک ایسا الزام جو گھوٹکی کے جاگیردارانہ ماحول میں موت کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ حلیمہ نے بتایا، ’’وہ میری زمین چاہتا تھا، اور اس الزام سے مجھے مروانا چاہتا تھا۔‘‘ جان بچانے کے لیے وہ اسلام آباد منتقل ہو گئیں۔

 

انہوں نے 15 ماہ تک پریس کلب کے باہر احتجاج کیا، بھوک ہڑتال کی، اور حکومت پر جاگیردارانہ ظلم کے خلاف بے عملی کا الزام لگایا۔ آخرکار ان کی آواز سپریم کورٹ تک پہنچی، جس نے 2011 میں ان کی طلاق منظور کی اور والدین کی جائیداد واپس دلا دی۔ وہ کہتی ہیں، ’’یہ میری نہیں، ہر اُس عورت کی لڑائی تھی جو ظلم کے خلاف کھڑی ہوتی ہے۔‘‘

 

سندھ پولیس کی رائے

 

گھوٹکی کے ایس ایس پی محمد انور کھیتران نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا، ’’غیرت کے نام پر قتل کسی صورت قابل قبول نہیں۔ یہ قابل نفرت عمل ہے جس کا خاتمہ ہونا چاہیے، اگرچہ سماجی تبدیلی میں وقت لگے گا۔‘‘

 

اسی طرح نوشہرو فیروز کے ایس ایس پی میر روحل کھوسو نے کہا، ’’جب عورت تعلیم یافتہ اور معاشی طور پر خودمختار ہوتی ہے تو اسے اپنے حقوق کا شعور ہوتا ہے۔ یہی تبدیلی کی کنجی ہے۔‘‘