رخسار جاوید
"میں جب سوات میں سیلاب زدگان کے کیمپ میں گئی تو وہاں ایک بچی اکیلے بیٹھی تھی، میں نے جا کر اس بچی کو اپنے پاس بٹھایا اور اس سے اس کا نام پوچھا، وہ کچھ بھی نا بولی اور خالی خالی آنکھوں سے مجھے تکتی رہی، میں نے اسے گلے لگایا تو اس کے سینے سے دبی دبی سسکیوں جیسی آوازیں آرہی تھیں۔" یہ کہنا تھا سیلاب زدگان کی امداد کے لیے جانے والی ایک رضاکار شمائلہ (فرضی نام) کا۔
شمائلہ پچھلے کئی سالوں سے مختلف سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں بطور رضاکار خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کے مطابق یہ سات سالہ بچی سوات میں آئے سیلاب کے باعث اپنے پورے خاندان کو کھو چکی تھی اور امدادی میڈیکل کیمپ میں اکیلی بیٹھی تھی۔ شمائلہ کے مطابق، "کیمپ میں موجود ایک خاتون نے بتایا کہ وہ اکثر رات کے وقت ڈر کر اور چیخیں مارتے جاگ جاتی ہے، اس حالت میں بچی کو پرسکون کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔"
خیبر پختونخوا میں ذہنی دباؤ اور صدمے کے بڑھتے کیسز
خیبر پختونخوا میں حالیہ سیلاب کے بعد متاثرہ افراد میں صدمہ، ڈپریشن اور شدید اضطراب جیسے ذہنی امراض میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق قدرتی آفات کے بعد ذہنی صحت پر پڑنے والے اثرات فوری اور طویل المدتی دونوں ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر خواتین، بچے، بزرگ اور بے گھر افراد زیادہ متاثر ہوئے، کیونکہ انہیں جسمانی نقصان کے ساتھ ساتھ جذباتی و سماجی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔
گھر، روزگار، مال مویشی اور زمین کے نقصان نے متاثرین میں مایوسی، خوف اور غیر یقینی کی کیفیت پیدا کی ہے۔ اگر بروقت نفسیاتی مدد فراہم نہ کی گئی تو یہ مسائل دائمی ذہنی بیماریوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
نفسیاتی بحالی کی ضرورت اور رکاوٹیں
ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے لیے سب سے موثر طریقے سماجی تعاون، مذہبی سرگرمیاں اور پیشہ ورانہ نفسیاتی مدد ہیں۔ کمیونٹی سپورٹ اور خاندانی تعلقات متاثرین کے لیے جذباتی سہارا فراہم کرتے ہیں، جبکہ ماہرین نفسیات کی مشاورت ان کے مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت نے کچھ علاقوں میں ذہنی صحت مراکز قائم کئے تھے، مگر ان کی رسائی محدود تھی۔ تربیت یافتہ عملے کی کمی، ثقافتی شرم اور مالی وسائل کی قلت جیسے مسائل نے ان اقدامات کی مؤثریت کو متاثر کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق متاثرہ علاقوں میں موبائل کلینکس، مقامی تربیت اور سکول سطح پر ذہنی صحت پروگرام شروع کئے جانے چاہئیں تاکہ متاثرین کو دیرپا سہولت فراہم کی جا سکے۔
این ڈی ایم اے کی بریفنگ: 30 لاکھ افراد متاثر
گزشتہ ماہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے اجلاس میں چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انکشاف کیا کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے ملک بھر میں 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر پنجاب اور سندھ کے اضلاع شامل ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کی 24 وادیاں شدید خطرے میں ہیں جبکہ 36 مقامات پر ہنگامی اقدامات ناگزیر ہیں۔ کمیٹی نے تشویش ظاہر کی کہ بعض علاقوں میں وارننگ ٹاورز ہی نصب نہیں کئے گئے، جس کے باعث متاثرہ آبادیوں تک بروقت معلومات نہیں پہنچ سکیں۔
ذہنی صحت، نظر انداز شدہ حقیقت
اگرچہ اجلاس میں مالی امداد، گلیشیئر پگھلنے اور تباہ کاریوں پر تفصیلی گفتگو ہوئی، لیکن ذہنی صحت کے متاثرین کا ذکر نہ ہونے کے برابر رہا۔ ماہرین کے مطابق، پاکستان میں آفات کے بعد نفسیاتی بحالی کو ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا ہے۔
رضاکار شمائلہ کہتی ہیں،"2012 کا سیلاب ہو یا 2025 کا، حالات ایک جیسے ہی ہیں، صرف تاریخیں بدلی ہیں۔"
