گیٹس فاؤنڈیشن اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) باہمی تعاون سے پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ 4 لاکھ 65 ہزار افراد کی صحت کی ضروریات پوری کرنے کا اعلان کیا ہے
یہ اعلان 27 اگست 2025 کو اسلام آباد میں گیٹس فاؤنڈیشن نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ساتھ مل کر پاکستان کے 33 سیلاب سے شدید متاثرہ اضلاع میں صحت کی سہولتیں بہتر بنانے کے لیے 10 لاکھ امریکی ڈالر عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ امداد خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے ان اضلاع میں دی جائے گی جہاں بارشوں اور طغیانی نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔
اس تعاون کے تحت آئندہ چھ ماہ تک سیلاب متاثرین کو صحت کی بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ خاص طور پر حاملہ خواتین، پانچ سال سے کم عمر بچوں، بزرگوں، معذور افراد، بے گھر خاندانوں اور دیگر کمزور طبقات کو دی جائے گی۔
ڈبلیو ایچ او کے پاکستان میں نمائندہ ڈاکٹر دا پینگ لو نے کہا کہ ہم گیٹس فاؤنڈیشن کے بروقت تعاون پر شکر گزار ہیں۔ یہ امداد نہ صرف متاثرہ افراد کو طبی سہولتیں فراہم کرنے میں مدد دے گی بلکہ مستقبل میں بہتر تیاری اور مضبوط صحت کا نظام قائم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق 15 اگست سے شروع ہونے والی بارشوں اور فلیش فلڈز میں اب تک خیبر پختونخوا میں کم از کم 450 افراد جاں بحق اور 265 زخمی ہوئے جبکہ 8 لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ صرف خیبر پختونخوا میں 57 صحت مراکز، 4 ہزار 243 مکانات اور 60 اسکولوں کو نقصان پہنچا۔
قومی سطح پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق 26 جون سے 27 اگست تک پورے ملک میں 802 افراد جاں بحق، 1,088 زخمی اور 7,465 مکانات تباہ ہوچکے ہیں جبکہ 238 پل، 658 کلومیٹر سڑکیں اور ہزاروں مال مویشی بھی بہہ چکے ہیں۔ متاثرین کے لیے 658 ریلیف کیمپ اور 63 میڈیکل کیمپ قائم کیے گئے جنہوں نے ہزاروں افراد کو پناہ اور طبی سہولتیں فراہم کیں۔
ڈبلیو ایچ او کی ٹیمیں وفاقی اور صوبائی اداروں کے ساتھ مل کر صورتحال کا جائزہ لینے، امدادی کاموں کی نگرانی کرنے اور متاثرہ افراد تک طبی سامان پہنچانے میں مصروف ہیں۔
صرف ایک دن بعد ڈبلیو ایچ او نے خیبر پختونخوا کے لیے ادویات اور طبی سامان روانہ کیا جس سے 15 ہزار مریضوں کا علاج ممکن بنایا گیا۔ اب تک ڈبلیو ایچ او کی جانب سے بھیجی گئی امداد 3 لاکھ 80 ہزار متاثرہ افراد کے علاج کے لیے کافی ہے۔
مون سون کنٹی جنسی( ہنگامی صورتحال ) کا پلان 2025 کے تحت ڈبلیو ایچ او اور حکومت پاکستان نے پہلے ہی 13 لاکھ افراد کو ہنگامی طبی امداد فراہم کرنے کی تیاری کر رکھی ہے۔