ملک بھر کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی یومِ استحصالِ کشمیر عقیدت و احترام سے منایا گیا۔ اس موقع پر پشاور میں گورنر ہاؤس سے وزیراعلیٰ ہاؤس تک یکجہتی واک کا اہتمام کیا گیا، جس کی قیادت گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کی۔ واک میں حریت رہنماؤں، ضلعی افسران، طلبہ، اور سماجی کارکنوں نے بھرپور شرکت کی۔
واک کے شرکاء نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور لاک ڈاؤن کی شدید مذمت کرتے ہوئے کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا اور مودی سرکار کے خلاف نعرے لگائے۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کو کشمیری عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا، لیکن پاکستان ہمیشہ ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرتا رہے گا۔ انہوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ بھارتی مظالم کا نوٹس لیں۔
اسی مناسبت سے قبائلی اضلاع بشمول کرک، خیبر اور لکی مروت میں بھی ریلیوں اور تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔ لکی مروت میں ڈسٹرکٹ بوائے سکاؤٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے نکالی گئی احتجاجی ریلی میں طلبہ، اساتذہ اور شہریوں نے شرکت کی۔ ریلی گورنمنٹ شہید غسان خان سینٹینیل ہائی سکول سے شروع ہو کر کارگل چوک پر اختتام پذیر ہوئی۔
ریلی کے اختتام پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بھارت کشمیر کی حیثیت ختم کرکے عالمی سطح پر بے نقاب ہوا ہے، اور اقوام متحدہ کو چاہیے کہ کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دلانے میں کردار ادا کرے۔
اس سے قبل سکول میں منعقدہ تقریب میں طلبہ و سکاؤٹس نے کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی پر مبنی تقاریر پیش کیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ہر پاکستانی کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
