ملک بھر کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی یومِ شہداء پولیس عقیدت و احترام سے منایا گیا۔ ضلع خیبر میں منعقدہ  تقریب میں پولیس افسران، شہداء کے لواحقین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر ڈی پی او خیبر رائے مظہر اقبال، ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر حکمت خان، ڈی ایس پی لنڈی کوتل ملک مظہر افریدی اور دیگر افسران نے یادگار شہداء پر پھول چڑھائے اور چراغاں کیا گیا۔ تقریب میں پولیس کے چاک و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔

 

اسی مناسبت سے جاری کردہ ایک پولیس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں سن 1970 سے 2025 تک مجموعی طور پر 2 ہزار 330 پولیس اہلکار دہشت گردی، جرائم کے خلاف کارروائیوں اور امن کے قیام کے دوران شہید ہو چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 1970 سے 1999 تک 236 پولیس اہلکار جام شہادت نوش کر چکے تھے، جب کہ سن 2000 سے 2025 کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 2 ہزار 96 اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

 

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ اہلکار سال 2009 میں شہید ہوئے، جن کی تعداد 210 تھی۔ اسی طرح 2008 میں 172، 2024 میں 163، 2011 میں 154، 2013 میں 135، 2014 میں 111 اور 2010 میں 108 پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ خیبرپختونخوا پولیس نے ہمیشہ امن کے قیام کے لیے بے مثال قربانیاں دیں۔

 

ڈی پی او خیبر نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ یوم شہداء کا مقصد اُن بہادر پولیس اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے جنہوں نے مادر وطن کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پولیس کے شہداء کی قربانیوں کے باعث آج خطے میں امن قائم ہے اور محکمہ پولیس شہداء کے ورثاء کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔

 

تقریب کے اختتام پر شہداء کے درجات کی بلندی اور ملک کی سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں، جب کہ "پاکستان زندہ باد" اور "خیبرپختونخوا پولیس زندہ باد" کے نعرے بھی بلند کئے گئے۔