گزشتہ سال سردیوں میں پنجاب کے ضلع چکوال جانے کا موقع ملا ۔چکوال جانے کا سفر صرف خوبصورت مناظر دیکھنے تک محدود نہیں تھا بلکہ یہاں کی دیہی ثقافت، روایتی مہمان نوازی اور زراعت کو قریب سے جاننے کا موقع بھی ملا۔ گزشتہ سال سردیوں میں ہونے والے اس سفر میں چکوال کے کھیتوں، باغات اور مقامی لوگوں کے خلوص نے خاص طور پر متاثر کیا۔
چکوال پہنچے تو دور تک پھیلے کھیت، ہلکے اونچے نیچے میدان اور دیہات کے قدرتی مناظر نے استقبال کیا۔ یہاں کی فضا اور دیہی ماحول شہر کی مصروف زندگی سے بالکل مختلف محسوس ہوا۔
مقامی لوگوں نے روایتی پنجابی انداز میں کھلے آسمان تلے چارپائیاں بچھائیں، ان پر کڑھائی والی چادریں سجائیں اور چائے کے ساتھ پنیر کا دیسی حلوہ پیش کیا۔ اس منفرد ذائقے کے ساتھ ان کی سادہ اور خلوص بھری مہمان نوازی نے اس سفر کو یادگار بنا دیا۔

گاؤں کے بعد کھیتوں کی سیر کی، جہاں مقامی لوگوں نے زراعت کے طریقوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ چکوال کے کئی علاقوں میں کسان بارش پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے پانی کی دستیابی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس کے باوجود کسان پانی ذخیرہ کرنے کے لیے تالاب بناتے اور آبپاشی کے لیے شمسی توانائی کے نظام استعمال کرتے ہیں۔
کھیتوں میں خواتین کی محنت بھی نمایاں تھی۔ مقامی لوگوں کے مطابق دیہی خواتین گھر کی ذمہ داریوں کے ساتھ کھیتی باڑی میں بھی اپنے خاندان کا ہاتھ بٹاتی ہیں۔ ان کی محنت چکوال کی دیہی زندگی کا اہم حصہ ہے۔
اس سفر کا ایک دلچسپ پڑاؤ مالٹوں کا باغ تھا۔ سبز پتوں کے درمیان نارنجی اور زرد رنگ کے پھلوں سے لدے درخت سردیوں کے موسم میں خوبصورت منظر پیش کر رہے تھے۔

باغ کے منتظمین نے بتایا کہ وہاں مالٹوں اور دیگر ترش پھلوں کی تقریباً 35 اقسام موجود ہیں۔ مختلف رنگوں، جسامت اور ذائقوں کے ان پھلوں کو دیکھنے کے ساتھ ہمیں درختوں سے خود مالٹے توڑ کر چکھنے کا موقع بھی ملا۔ ہر قسم کا ذائقہ الگ تھا اور تازہ پھلوں کی مٹھاس نے اس تجربے کو مزید دلچسپ بنا دیا۔
چکوال کا یہ سفر پنجاب کی دیہی ثقافت، دیسی مہمان نوازی اور زراعت کے خوبصورت رنگوں سے روشناس کرانے والا تجربہ تھا۔ یہاں کے کھیت، مالٹوں کے باغات اور لوگوں کا خلوص اس سفر کی سب سے خوبصورت یادیں بن گئے۔
