آمینہ سالارزئی
ڈرائیونگ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جس میں ذرا سی لاپرواہی ڈرائیور سمیت کئی لوگوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔ ایک ڈرائیور کے لیے صرف لائسنس کا ہونا کافی نہیں بلکہ ٹریفک اصولوں پر عمل کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
ہم روزانہ ٹریفک حادثات دیکھتے ہیں، جن میں ڈرائیور کی غفلت، گاڑی کی ناقص فٹنس، تیز رفتاری اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی جیسے عوامل شامل ہوتے ہیں۔ گاڑی کی فٹنس برقرار رکھنا ٹرانسپورٹ مالکان کی بھی ذمہ داری ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ٹک ٹاکر گیلامنہ قتل کیس: جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والا ملزم گرفتار
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 11 لاکھ 60 ہزار افراد سڑکوں پر ہونے والے ٹریفک حادثات کے نتیجے میں جاں بحق ہوتے ہیں۔ 5 سے 29 سال کی عمر کے بچوں اور نوجوانوں میں ٹریفک حادثات موت کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔

دنیا بھر میں سڑکوں پر ہونے والی 92 فیصد اموات کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں ہوتی ہیں، حالانکہ ان ممالک میں دنیا کی تقریباً 60 فیصد گاڑیاں موجود ہیں۔ ٹریفک حادثات میں ہونے والی نصف سے زیادہ اموات پیدل چلنے والوں، سائیکل سواروں اور موٹر سائیکل سواروں سمیت سڑک استعمال کرنے والے غیر محفوظ افراد کی ہوتی ہیں۔
جولائی کے شروع میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافروں سے بھری بس بلوچستان کے ضلع شیرانی کے پہاڑی علاقے دہانہ سر میں گہری کھائی میں جاگری۔ حادثے میں خواتین اور بچوں سمیت 40 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون شاہد رند کے مطابق بس میں اپنے مسافروں کے علاوہ ایک خراب ہونے والی دوسری بس کے مسافر بھی سوار تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق بس میں ایرانی ڈیزل کی موجودگی پر چیک پوسٹ پر کارروائی کے بعد ڈرائیور اور مسافروں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تھی۔ ان کے مطابق اس صورتحال کے بعد ڈرائیور شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوا اور غصے کے باعث بس گہری کھائی میں جاگری۔

ایسے ٹریفک حادثات کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں، جن میں دشوار گزار پہاڑی راستے، تیز رفتاری، حد سے زیادہ مسافروں کا بوجھ، ٹریفک قوانین پر عمل درآمد نہ ہونا اور نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کرنا، غصے یا ذہنی دباؤ میں گاڑی چلانا شامل ہیں۔ یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں بلکہ ملک میں ایسے کئی حادثات پیش آچکے ہیں۔
محفوظ سفر کے لیے ڈرائیور کا ذمہ دارانہ رویہ
پشاور میں قائم ٹاؤن موٹر ڈرائیونگ اسکول کے استاد سلیم کے مطابق طویل سفر کے لیے ڈرائیور حضرات کا احتیاط اور ذمہ داری سے ڈرائیونگ کرنا ضروری ہے۔
ان کے مطابق سفر شروع کرنے سے پہلے گاڑی کی جنرل چیکنگ ہونی چاہیے، جس میں ٹائر، بریک سسٹم، انجن آئل، پانی، وائرنگ اور لائٹس شامل ہیں۔ ڈرائیور کو دورانِ ڈرائیونگ ٹریفک قوانین کی پابندی کرنی چاہیے اور گاڑی کی رفتار کو سڑک، موسم اور ٹریفک کی صورتحال کے مطابق رکھنا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ تیز رفتاری، غلط سمت سے آگے نکلنا اور موبائل فون کا استعمال حادثات کا سبب بن سکتے ہیں، اس لیے ان سے گریز ضروری ہے۔
بڑی گاڑیوں کے ڈرائیورز کے لیے مقررہ لین میں گاڑی چلانا نہایت اہم ہے کیونکہ ان گاڑیوں کا وزن اور حجم زیادہ ہوتا ہے۔ ڈرائیور کو گاڑی کے ٹائروں، بریک، لائٹس اور مناسب وزن کا خیال رکھنا چاہیے۔
طویل سفر کے دوران مناسب آرام بھی ضروری ہے، جبکہ سامان کو اچھی طرح باندھنا چاہیے۔ گاڑی میں ابتدائی طبی امداد کا ڈبہ، اضافی ٹائر اور ضروری اوزار بھی موجود ہونے چاہییں۔

اگر ڈرائیور کی نیند پوری نہ ہو تو دورانِ ڈرائیونگ توجہ مرکوز رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح غصے یا شدید ذہنی دباؤ کی حالت میں بھی ڈرائیونگ سے گریز کرنا چاہیے۔ حادثات سے بچاؤ کے لیے سیٹ بیلٹ باندھنا ضروری ہے جبکہ ہیڈ فون کا استعمال بھی نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے ہارن اور دیگر ضروری آوازیں سننے میں دشواری ہوسکتی ہے۔
اکثر ڈرائیور پہاڑی علاقوں اور تنگ سڑکوں پر ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں، جو ایک خطرناک عمل ہے۔ ڈرائیور کو اپنی گاڑی کی رفتار قابو میں رکھنے کے ساتھ آگے والی گاڑی سے مناسب فاصلہ بھی برقرار رکھنا چاہیے۔
ٹریفک حادثات سے مسافر خود کو کیسے محفوظ رکھیں؟
سفر کے دوران مسافروں کو بلا ضرورت باتیں، شور اور بحث مباحثے سے گریز کرنا چاہیے تاکہ ڈرائیور کی توجہ متاثر نہ ہو۔

مسافروں کا بھی حق بنتا ہے کہ وہ پبلک ٹرانسپورٹ میں ڈرائیور کی لاپرواہی پر اسے روکیں۔ اگر ڈرائیور تیز رفتاری کرے، موبائل فون استعمال کرے یا غلط سمت میں گاڑی چلائے تو مسافر اسے فوراً محتاط رہنے کا کہیں اور ضرورت پڑنے پر محفوظ مقام پر گاڑی رکوا دیں۔
اگر ڈرائیور پر نیند کا غلبہ ہو، نشے کی حالت میں ہو یا جسمانی بیماری کے باعث درست طریقے سے ڈرائیونگ نہ کرپارہا ہو تو فوراً گاڑی رکوانی چاہیے اور آگے کے سفر کے لیے محفوظ انتظام کرنا چاہیے۔
ٹرانسپورٹ مالکان کی ذمہ داری
ٹرانسپورٹ مالکان کی ذمہ داری ہے کہ ڈرائیورز کے ڈیوٹی اوقات طے کریں، گاڑیوں کی بروقت مرمت اور فٹنس یقینی بنائیں اور طویل سفر کے بعد اگلے سفر سے پہلے ڈرائیور کو مناسب آرام کا وقت دیں۔ طویل سفر کے لیے ماہر، تربیت یافتہ اور تندرست ڈرائیور کا انتخاب بھی ضروری ہے۔

حکومت اور ٹریفک قوانین نافذ کرنے والے اداروں کو عوام کے محفوظ سفر کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات اور قوانین پر مؤثر عمل درآمد پر توجہ دینی چاہیے تاکہ عام مسافر کسی اور کی لاپرواہی یا غیر قانونی سرگرمی کے باعث متاثر نہ ہوں۔
خراب سڑکیں، ڈرائیونگ میں لاپرواہی، گاڑیوں کی ناقص حالت اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد نہ ہونا حادثات کا سبب بن سکتے ہیں۔ اپنی اور دوسروں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے احتیاطی اصولوں اور قواعد و ضوابط کی پابندی ضروری ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
