خیبرپختونخوا حکومت نے پاکستان کی پہلی ذیلی قومی ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن پالیسی لانچ کردی، جس کا مقصد آفات کے بعد ردعمل کے بجائے قدرتی آفات سے پہلے تیاری، بروقت وارننگ اور خطرات میں کمی کو یقینی بنانا ہے۔
پالیسی کا باضابطہ اجرا وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں منعقدہ تقریب میں کیا گیا۔ جرمن حکومت کے تعاون سے تیار کی گئی پالیسی کے تحت خیبرپختونخوا کو محفوظ، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ اور قدرتی خطرات سے باخبر صوبہ بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی نمائندگی کی۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ اب آفات کے بعد امداد، ریسکیو اور بحالی تک محدود رہنے کے بجائے آفات سے پہلے تیاری اور پیشگی اقدامات کی جانب بڑھ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سونے کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
شفیع جان کے مطابق پالیسی کے تحت خیبرپختونخوا میں جدید اور فعال ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام متعارف کرایا جائے گا، جبکہ ترقیاتی منصوبہ بندی میں قدرتی خطرات کو ابتدا ہی سے مدنظر رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ صرف خطرے کی اطلاع کافی نہیں، اصل کامیابی بروقت وارننگ کو خطرے سے دوچار افراد تک پہنچانے میں ہے۔ بروقت وارننگ اور پیشگی اقدامات سے انسانی جانوں اور املاک کے نقصانات میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آبادی میں تیزی سے اضافہ اور غیر منصوبہ بند تعمیرات قدرتی آفات کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، اس لیے رسک انفارمڈ ڈویلپمنٹ کے ذریعے ترقیاتی منصوبہ بندی میں قدرتی خطرات کو شامل کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور عالمی سطح کی تکنیکیں اپنائے گا تاکہ صوبے کو آفات کے مقابلے میں مزید مضبوط بنایا جاسکے۔

جرمن سفارتخانے کی ہیڈ آف کوآپریشن ڈاکٹر میریم نے خیبرپختونخوا حکومت کی ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن کے حوالے سے قیادت اور عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ پالیسی کا مقصد آفات کے بعد بہتر ردعمل کے بجائے ان کے ممکنہ خطرات اور اثرات کو پہلے ہی کم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پالیسی مختلف اداروں کو ایک سمت میں کام کرنے کے لیے مربوط فریم ورک فراہم کرے گی، تاہم اس کا اصل امتحان مؤثر عملدرآمد ہے۔
ڈاکٹر میریم نے یقین دلایا کہ جرمنی خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن پالیسی کے نفاذ میں تعاون جاری رکھے گا۔
