ضلع خیبر میں ہر سال تقریباً 6 ہزار طلبہ و طالبات میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد کالج کی سطح پر پہنچتے ہیں، تاہم خیبر میں فرسٹ ائیر کے محدود نشستوں اور مالی مشکلات کے باعث بڑی تعداد میں طلبہ اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔
قمبر سٹوڈنٹس سوسائٹی کے صدر سعود آفریدی اور دیگر عہدیداران نے باڑہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ضلع خیبر کے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے ذہین اور باصلاحیت طلبہ میٹرک کے بعد اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں کا رخ کرتے ہیں، جہاں انہیں داخلے کے ساتھ ساتھ رہائش اور دیگر اخراجات کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پشاور: متھرا میں 30 مرلہ زمین کے تنازع پر 3 سگے بھائی قتل
سعود آفریدی نے کہا کہ قمبر سٹوڈنٹس سوسائٹی نے اپنی مدد آپ کے تحت ضلع خیبر کے تقریباً ایک ہزار طلبہ کو خیبر پختونخوا کے مختلف کالجز میں داخلے دلوانے میں کردار ادا کیا ہے۔

یہ ایک بڑی کامیابی ہے، تاہم اب ان طلبہ کو کالجز میں تعلیم جاری رکھنے کے لیے ہاسٹل، کھانے پینے اور دیگر بنیادی اخراجات کی ضرورت ہے، جس کے لیے سوسائٹی کو شدید مشکلات درپیش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صرف داخلہ دلوانا کافی نہیں، بلکہ غریب اور مستحق طلبہ کو تعلیم مکمل کرنے تک سہولت فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر طلبہ کو داخلے کے بعد رہائش اور دیگر اخراجات کے لیے مالی مشکلات کا سامنا رہا تو خدشہ ہے کہ متعدد طلبہ تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں گے۔
انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت، محکمہ ہائیر ایجوکیشن، ضلعی انتظامیہ، منتخب نمائندوں، مخیر حضرات، فلاحی تنظیموں، این جی اوز، سول سوسائٹی اور دیگر متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ ضلع خیبر کے طلبہ کے لیے خصوصی تعلیمی معاونت پروگرام شروع کیا جائے، جس کے تحت مستحق طلبہ کی کالج فیس، ہاسٹل، کتابوں اور دیگر ضروری اخراجات میں مدد کی جائے۔
