وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وزراء، معاونین خصوصی اور مشیران کے عوام سے براہِ راست رابطے اور مسلسل دوروں کو سراہتے ہوئے کابینہ اراکین کو اپنی کارکردگی اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینے کی ہدایت کی ہے۔
56ویں صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوامی دوروں سے صوبے کو درپیش مسائل کا براہِ راست علم ہوتا ہے، جبکہ افسران کے عوام کے ساتھ رویے اور سروس ڈلیوری میں موجود خامیوں کی بھی نشاندہی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ اراکین مخالفین کی باتوں کے بجائے اپنی کارکردگی پر توجہ دیں۔
یہ بھی پڑھیے: نیشنل ڈریم کپ کراٹے فیسٹیول میں ضلع خیبر کے 2 کھلاڑیوں نے گولڈ میڈلز اپنے نام کر لیے
محمد سہیل آفریدی نے محکمہ خزانہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود صوبے کی معیشت کو بہتر انداز میں سنبھالا گیا۔ ان کے مطابق 129 ارب روپے کے ریونیو ہدف کے مقابلے میں 150 ارب روپے حاصل کیے گئے، جبکہ رواں سال کے لیے ریونیو ہدف 180 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ترقیاتی کام عوام کو نظر آ رہے ہیں، تاہم ان کی رفتار مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حق، سچ، شفافیت اور کرپشن کے خلاف مؤقف پر مخالفین کی تعداد بڑھ سکتی ہے، لیکن کابینہ اراکین کو اپنی کارکردگی پر توجہ دینی چاہیے۔
آئی ایم ایف کی رپورٹ میں 5300 ارب روپے کی کرپشن کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ لوٹا گیا، لیکن اس معاملے پر کوئی آواز نہیں اٹھا رہا۔
اجلاس سے خطاب میں عمران خان کی صحت کا بھی ذکر کرتے ہوئے محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ میڈیا پر سامنے آنے والی تشویشناک خبروں سے پوری قوم میں تشویش ہے۔ ان کے مطابق گرفتاری کے وقت عمران خان مکمل طور پر صحت مند تھے، جبکہ جیل انتظامیہ اور وفاقی حکومت کی غفلت سے ان کی صحت خراب ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز عمران خان کی بہنوں اور وکلا سے ملاقات کا دن تھا، تاہم انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ وزیراعلیٰ کے مطابق تقریباً 3 سال میں عمران خان نے صحت کو جواز بنا کر کبھی ریلیف نہیں مانگی۔
صوبائی حکومت نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو ذاتی ڈاکٹروں، اہلِ خانہ، وکلا اور دوستوں سے ملاقات اور رسائی دی جائے، جو ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔
