سابق فاٹا خاصہ دار و لیویز فورس کے سروس مسائل کے حل کے لیے بابِ خیبر پر جاری احتجاجی دھرنے کے شرکاء نے حکومت سے ترقی، پنشن، سروس اسٹرکچر، تربیت، بحالی اور دیگر بنیادی مسائل فوری حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

 

آل فاٹا خاصہ دار و لیویز فورس کور کمیٹی نے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے تمام قبائلی اضلاع کے تھانوں میں ایف آئی آر کے اندراج کی مخالفت کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

 

سروس مسائل کے حل اور معاہدے پر عملدرآمد کا مطالبہ

 

کمیٹی کے چیئرمین سید جلال وزیر نے ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد لیویز و خاصہ دار فورس کو پولیس میں ضم کیا گیا، تاہم کئی سال گزرنے کے باوجود اہلکاروں کے بنیادی سروس مسائل حل نہیں ہوسکے۔

 

ترقیوں اور سروس اسٹرکچر سے متعلق مسائل

 

کمیٹی کے مطابق 4 اپریل 2019 سے پولیسنگ کا عمل شروع ہونے کے باوجود سابق لیویز و خاصہ دار اہلکاروں کی ترقی کے لیے مؤثر نظام قائم نہیں کیا گیا، جبکہ اے-1 اور بی-1 امتحانات بھی منعقد نہیں ہوئے۔

 

 

کمیٹی کا کہنا ہے کہ بعض اہلکاروں کو ترقی کی فہرستوں میں شامل کرنے کے بعد دوبارہ نکال دیا گیا، جبکہ جنوبی وزیرستان میں بعض اہلکاروں کو خالی آسامیوں پر دی گئی ترقیاں بھی واپس لے لی گئیں۔

 

کمیٹی نے باقی ماندہ لیویز و خاصہ دار اہلکاروں، بالخصوص منسٹریل اور نان کمبیٹنٹ اسٹاف کے لیے فیز فور جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

 

پنشن کے معاملے کا مستقل حل

 

احتجاجی کمیٹی کے مطابق سابق خاصہ دار اہلکاروں کی پنشن کا معاملہ بھی تاحال حل طلب ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ بعض ریٹائرڈ اہلکاروں کی سروس کو پولیس میں انضمام کی تاریخ سے شمار کیے جانے کے باعث انہیں مکمل پنشن کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔

 

کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق لیویز و خاصہ دار اہلکاروں کی سابقہ سروس کو قواعد و قانون کے مطابق تسلیم کرکے پنشن کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے۔

 

شہداء کے بچوں اور برطرف اہلکاروں کی بحالی

 

کمیٹی نے انضمام سے قبل شہید ہونے والے اہلکاروں کے بچوں کو قواعد کے مطابق ملازمت دینے اور بدامنی کے دوران برطرف کیے گئے سابق اہلکاروں کو بحال کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

 

کمیٹی کے مطابق بعض متاثرہ اہلکار عدالتوں سے رجوع کرچکے ہیں اور کچھ اہلکار بحال بھی ہوئے ہیں، تاہم متعدد معاملات اب بھی حل طلب ہیں۔

 

قبائلی اضلاع میں ایف آئی آر کے اندراج کی مخالفت

 

سید جلال وزیر نے کہا کہ کور کمیٹی نے قبائلی روایات کے تحت تمام قبائلی اضلاع کے تھانوں میں ایف آئی آر کے اندراج کی مخالفت کا فیصلہ کیا ہے اور تھانوں کی سطح پر ایف آئی آر کے اندراج کی مزاحمت کی جائے گی۔

 

انہوں نے بتایا کہ ضلع خیبر کے تھانہ میل وڈ میں ایف آئی آر درج کیے جانے پر بھی کمیٹی نے قبائلی روایات کے مطابق 5 لاکھ روپے جرمانہ اور ایک دھبہ جرمانہ عائد کیا، جو کمیٹی کے مطابق وصول کرلیا گیا ہے۔

 

 

سید جلال وزیر کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ایف آئی آر کے اندراج کے خلاف کمیٹی کے اعلان کردہ مؤقف کے تحت کیا گیا۔

 

حکومت سے مذاکرات اور واضح ٹائم لائن کا مطالبہ

 

کمیٹی کے چیئرمین سید جلال وزیر اور وائس چیئرمین ملک مظہر آفریدی کا کہنا ہے کہ سابق فاٹا لیویز و خاصہ دار فورس نے مشکل حالات میں امن و امان کے قیام کے لیے خدمات انجام دیں، اس لیے ان کے جائز سروس اور مالی مسائل کو مزید نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

 

انہوں نے کہا کہ ہم بابِ خیبر پر احتجاجی دھرنے کی شکل میں بیٹھے ہیں اور مطالبات حل ہونے تک دھرنا جاری رہے گا۔

 

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سابق فاٹا لیویز و خاصہ دار فورس کے ساتھ کیے گئے 22 نکاتی معاہدے پر مکمل عملدرآمد کیا جائے اور باقی ماندہ مسائل کے حل کے لیے احتجاجی کمیٹی کے ساتھ فوری مذاکرات کیے جائیں۔

 

دھرنے کے دوران قبائلی اضلاع، بالخصوص ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والی سیاسی و سماجی شخصیات، عمائدین اور مختلف نمائندہ وفود نے بھی شرکاء سے ملاقات کرکے ان کے مطالبات کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔