ضلع بنوں میں سیکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں جاری ہیں۔ تحصیل بکاخیل میں تازہ آپریشن کے دوران مزید 3 عسکریت پسند ہلاک کیے گئے، جبکہ دوسری جانب بنوں پولیس نے تحصیل میریان کے علاقوں نورڑ اور ممباتی بارکزئی میں سرچ آپریشن کے دوران 28 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔

 

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بکاخیل میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر سیکیورٹی فورسز نے ایک مشتبہ ٹھکانے پر انٹیلی جنس پر مبنی کارروائی کی۔ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 3 عسکریت پسند ہلاک ہوگئے۔

 

یہ بھی پڑھیے: شہداء زیارت دھرنا: احتجاج کے دوران کوئٹہ کے شہریوں نے انسانیت اور یکجہتی کی مثال کیسے قائم کی؟

 

حکام کا کہنا ہے کہ ضلع بھر میں عسکریت پسندوں، ان کے سہولت کاروں اور ٹھکانوں کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز اور بنوں پولیس اس وقت بکاخیل، جانی خیل، میریان، سررہ درگاہ اور وزیر سب ڈویژن میں انٹیلی جنس پر مبنی اور ٹارگٹڈ آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں۔

 

یہ کارروائیاں 15 جولائی کو تھانہ میریان پر بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے خودکش حملے کی ناکام کوشش کے بعد مزید تیز کی گئیں۔ حملے کے اگلے روز بکاخیل اور میریان میں سرچ اور کلیئرنس آپریشنز کا آغاز کیا گیا، جن کے دوران مختلف مقامات پر دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

 

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ دھماکے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں میں موجود بارودی مواد اور گولہ بارود پھٹنے کے باعث ہوئے، جب سیکیورٹی فورسز متاثرہ علاقوں کو کلیئر کر رہی تھیں۔

 

آئی ایس پی آر نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بنوں میں مختلف انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں میں 24 عسکریت پسند ہلاک کیے گئے تھے۔ بکاخیل میں تازہ کارروائی کے بعد حالیہ دنوں میں ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: بنوں: سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 24 خوارج ہلاک، دہشتگردوں کے خلاف آپریشن جاری

 

ذرائع کے مطابق جانی خیل اور ملحقہ علاقوں میں کلیئرنس آپریشن کے بعد علاقے میں مزید سیکیورٹی اہلکار اور بکتر بند گاڑیاں تعینات کی گئی ہیں تاکہ حاصل کی گئی پیش رفت کو برقرار رکھا جا سکے۔

 

ضلع بھر میں سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ آپریشنل علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز عارضی طور پر معطل ہیں، جبکہ شہریوں کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

 

حکام کے مطابق انٹیلی جنس پر مبنی اور ٹارگٹڈ آپریشنز اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں، سہولت کاروں اور لاجسٹک نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔