وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وزیراعظم کو خط لکھ کر ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن سے ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کے مجوزہ فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی ہے۔
وزیراعلیٰ نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی وعدوں کی تکمیل سے قبل ٹیکس استثنیٰ کا خاتمہ سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی، معاشی بحالی میں رکاوٹ اور مقامی کاروبار پر اضافی بوجھ کا باعث بنے گا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن سے ٹیکس استثنیٰ واپس لینے کا فیصلہ فوری طور پر مؤخر کیا جائے اور جب تک انضمام کے وقت کیے گئے وعدے پورے نہیں ہوتے اور خطے کے حالات میں واضح بہتری نہیں آتی، موجودہ ٹیکس استثنیٰ برقرار رکھا جائے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا: کن علاقوں میں بارش اور کہاں گرمی رہے گی؟ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن سے ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کی تجویز عوامی تشویش کا باعث ہے اور خیبرپختونخوا اسمبلی بھی اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت منصفانہ ٹیکس نظام کی حامی ہے، تاہم اصل مسئلہ ٹیکس نہیں بلکہ انضمام کے وقت وفاق کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہ ہونا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ضم اضلاع کا خیبرپختونخوا میں انضمام مالی، آئینی اور ادارہ جاتی معاونت کے واضح وفاقی وعدوں کے ساتھ عمل میں آیا تھا، مگر یہ وعدے آج تک پورے نہیں کیے گئے، جس کے باعث صوبہ انضمام کا اضافی بوجھ تنہا برداشت کر رہا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ضم اضلاع کے لیے این ایف سی میں طے شدہ حصہ بھی تاحال خیبرپختونخوا کو فراہم نہیں کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن صوبے کے طور پر بے مثال انسانی، معاشی اور انفراسٹرکچر نقصانات اٹھا چکا ہے، جبکہ امن و امان، انسداد دہشت گردی، متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیر پر مسلسل بھاری مالی وسائل خرچ کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: خاص علاقہ، الگ قوانین؟ سوات کا ٹیکس نظام پاکستان کے دیگر شہروں سے کیوں مختلف ہے؟
خط میں کہا گیا کہ افغانستان کے ساتھ سرحدی تجارت کی بندش نے ضم اضلاع کی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ پسماندگی، ناکافی انفراسٹرکچر اور توانائی کے مسائل آج بھی معاشی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ انہی حالات کے پیش نظر ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن کو سرمایہ کاری، روزگار اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ٹیکس استثنیٰ دیا گیا تھا اور یہ بنیادی حالات اب بھی بڑی حد تک برقرار ہیں۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے مجوزہ ٹیکس اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی تھی، تاہم محدود اجلاسوں کے باوجود کمیٹی کوئی حتمی سفارشات مرتب نہ کر سکی۔ اس کے باوجود صوبائی حکومت اور مقامی اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیے بغیر ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے حساس سرحدی علاقوں میں امن و امان پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی متفقہ قرارداد کے ذریعے وفاقی حکومت سے مجوزہ ٹیکس اقدامات مؤخر کرنے کا مطالبہ کر چکی ہے۔
وزیراعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ وفاقی حکومت انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کا احترام کرتے ہوئے مثبت فیصلہ کرے گی اور ضم اضلاع و مالاکنڈ ڈویژن کے عوام کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیکس استثنیٰ برقرار رکھنے کا فیصلہ کرے گی۔
