مردان میں واقع سکھ گردوارے میں دوہرے قتل کے واقعے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس نے اپنے ہی ایک اہلکار کو گرفتار کرلیا۔ گرفتار ملزم کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والی پستول اور موٹرسائیکل بھی برآمد کرلی گئی۔
ڈی پی او مردان مسعود بنگش نے اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ روز مردان کے شہری علاقے بابو محلہ میں واقع سکھ عبادت گاہ میں 70 سالہ جگنات ولد ہری رام اور ان کی اہلیہ آسا ونتی کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔ دونوں میاں بیوی گردوارے میں ملازم تھے۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس کی تفتیشی ٹیم نے جدید سائنسی طریقوں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے واقعے میں ملوث ملزم کی شناخت کرتے ہوئے 24 گھنٹے کے اندر گرفتار کرلیا۔
یہ بھی پڑھیے: سونے کے نرخوں میں مسلسل دوسرے روز بھی بڑی کمی
ڈی پی او کے مطابق دورانِ تفتیش ملزم نے دوہرے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے اسے اپنا ذاتی فعل قرار دیا، تاہم پولیس تمام پہلوؤں سے واقعے کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گرفتار ملزم شیر شاہ ولد نادر شاہ سکنہ امازوگڑھی، حال ایران آباد مردان، پولیس کا حاضر سروس اہلکار ہے۔ وہ تین سال قبل اسی گردوارے پر ڈیوٹی انجام دے چکا ہے جبکہ اس وقت پولیس لائن مردان میں تعینات تھا۔ ملزم کے والد بھی پولیس میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
ڈی پی او کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں ملزم کا کسی کالعدم تنظیم یا دہشت گرد گروہ سے تعلق سامنے نہیں آیا، تاہم تفتیش جاری ہے۔
دوسری جانب مردان سے تعلق رکھنے والے اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی سریش کمار نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ واقعے کے بعد اقلیتی برادری میں خوف پایا جا رہا تھا، تاہم پولیس کی بروقت کارروائی نے اعتماد بحال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی تفتیش پر مکمل اعتماد ہے اور احتجاجی کال واپس لے لی گئی ہے۔
