جنوبی وزیرستان لوئر میں سال 2014ء سے زیرِ تعمیر شکئی ڈانڈ ڈیم منصوبہ تاحال مکمل نہ ہو سکا، جس پر اہلِ علاقہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

 

مقامی ذرائع اور شکئی ڈانڈ ڈیم کمیٹی کے مطابق منصوبے کی مقررہ تکمیل مدت تین سال تھی، تاہم 12 سال گزرنے کے باوجود ڈیم کا صرف تقریباً 48 فیصد کام مکمل ہو سکا ہے جبکہ باقی حصہ تاحال نامکمل پڑا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: اورکزئی: قبر کی کھدائی کے دوران آسمانی بجلی گر گئی، 3 افراد جاں بحق

 

مقامی سیاسی و سماجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ منصوبے کے لیے متعدد بار فنڈز جاری کیے گئے اور لاگت میں بھی اضافہ کیا گیا، لیکن اس کے باوجود تعمیراتی کام مسلسل تاخیر کا شکار ہے۔ ان کے مطابق صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ منصوبے پر عملدرآمد میں سنگین انتظامی اور تکنیکی مسائل موجود ہیں۔

 

اہلِ علاقہ کا مؤقف ہے کہ حکومت کی جانب سے فنڈز کے اجراء کا دعویٰ کیا جاتا ہے، جبکہ متعلقہ ٹھیکیدار فنڈز کی عدم دستیابی کو تاخیر کی وجہ قرار دیتا ہے، جس کے باعث منصوبہ مسلسل تعطل کا شکار ہے۔ مقامی افراد نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

 

 

شکئی ڈانڈ ڈیم کمیٹی کے مطابق منصوبے کی تکمیل سے علاقے میں زرعی سرگرمیوں کو نمایاں فروغ ملے گا، لاکھوں ایکڑ اراضی قابلِ کاشت بن سکے گی جبکہ سیاحت کے شعبے میں بھی ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

 

اہلِ علاقہ نے صوبائی حکومت، متعلقہ اداروں اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیم پر تعمیراتی کام فوری طور پر دوبارہ شروع کرایا جائے اور منصوبے کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس اہم عوامی منصوبے پر پیش رفت نہ ہوئی تو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔

 

مقامی عوام نے وزیراعظم پاکستان، چیف آف آرمی اسٹاف، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور گورنر خیبرپختونخوا سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر شکئی ڈانڈ ڈیم منصوبے کی تکمیل کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کریں۔