زالان خان آفریدی
طورخم بارڈر پر ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں افغانستان میں 9 ماہ سے پھنسے پاکستانی خالی کنٹینر ٹرانزٹ گاڑیوں کی واپسی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں دو خالی کنٹینر گاڑیاں پاکستان واپس پہنچ گئی ہیں۔
ٹرانسپورٹر ذرائع کے مطابق افغانستان میں سرحدی صورتحال اور بندش کے باعث سینکڑوں پاکستانی گاڑیاں گزشتہ کئی ماہ سے پھنس کر رہ گئی تھیں، جس کے نتیجے میں مالکان اور ڈرائیورز کو شدید مالی مشکلات، کاروباری نقصان اور ذہنی دباؤ کا سامنا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: دیر بالا: گوگیال میں شوہر کی فائرنگ، بیوی اور بہن جاں بحق، بھابھی زخمی
گاڑیوں کی واپسی کے لیے لنڈی کوتل میں ٹرانسپورٹرز اور ڈرائیورز کی جانب سے متعدد احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے، جبکہ بعض مواقع پر پاک افغان شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کر کے حکام کی توجہ اس مسئلے کی جانب مبذول کرائی گئی۔
مظاہرین کا مؤقف تھا کہ طویل عرصے سے ان کی گاڑیاں افغانستان میں موجود ہیں، جس کے باعث ان کا روزگار بری طرح متاثر ہوا ہے، لہٰذا حکومت اور متعلقہ ادارے فوری اقدامات کریں۔
ٹرانسپورٹرز نے خالی کنٹینرز کی واپسی کے آغاز کو ایک مثبت اور اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ باقی پھنسے ہوئے ٹرانزٹ کنٹینرز بھی جلد پاکستان واپس پہنچ جائیں گے۔
مقامی ٹرانسپورٹرز کے مطابق طورخم بارڈر سے منسلک ٹرانسپورٹ سیکٹر پہلے ہی مختلف چیلنجز کا شکار ہے، ایسے میں یہ پیش رفت متاثرہ خاندانوں کے لیے کسی ریلیف سے کم نہیں۔
