وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ پر الیکٹرانک دستخط ہو گئے ہیں، جس کے تحت دونوں ممالک نے جاری تنازع کو سفارتی ذرائع اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

 

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے اس معاہدے کی ثالث کے طور پر توثیق کی ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کشیدگی کم کرنے اور تنازع کے پرامن حل کے لیے پُرعزم ہیں جبکہ معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔

 

یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں لڑکیوں کو تعلیم تو دی جا رہی ہے، مگر خودمختاری اب بھی سوالیہ نشان ہے

 

وزیراعظم نے بتایا کہ ابتدائی اقدامات کے تحت ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے گا جبکہ امریکا ایران پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

 

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران معاہدے کی شرائط پر عمل کرتا ہے اور مثبت رویہ اپناتا ہے تو اسے 300 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز تک رسائی دی جا سکتی ہے۔

 

ٹرمپ کے مطابق ایران نے جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ جوہری پروگرام سے متعلق تکنیکی مذاکرات جلد شروع ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے اس پیش رفت میں پاکستان اور قطر کے سفارتی کردار کو بھی سراہا۔