ایمان ظاہر شاہ 

 

ہم اکثر یہ سن کر خوش ہوتے ہیں کہ پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یقیناً یہ ایک مثبت پیش رفت ہے، کیونکہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ لیکن ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا صرف تعلیم ہی کافی ہے؟ کیا ڈگری حاصل کر لینے سے ایک لڑکی واقعی بااختیار ہو جاتی ہے؟

 

حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی بہت سی لڑکیاں تعلیم تو حاصل کر رہی ہیں، لیکن اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلے کرنے کا اختیار ان کے پاس نہیں۔ انہیں اپنی رائے کے اظہار، اپنی پسند اور ناپسند بتانے اور زندگی کے اہم معاملات میں فیصلہ سازی کا حق نہیں دیا جاتا۔ گویا تعلیم تو دی جاتی ہے، مگر اختیار نہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبر: زمین کے تنازعے پر فائرنگ، خاتون سمیت 3 افراد جاں بحق، 2 زخمی

 

تعلیم کا مقصد صرف کتابی علم یا ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ انسان میں شعور، اعتماد اور فیصلہ سازی کی صلاحیت  پیدا کرنا بھی ہے۔ اگر ایک لڑکی کو تعلیم تو دی جائے لیکن اس کی زندگی کے اہم فیصلے دوسرے لوگ کرتے رہیں تو ایسی تعلیم اپنے اصل مقصد کو مکمل طور پر حاصل نہیں کر پاتی۔

 

 

اسی تناظر میں اگر پاکستان میں لڑکیوں کی شرحِ خواندگی پر نظر ڈالیں تو گزشتہ دو دہائیوں کے دوران نمایاں بہتری دیکھنے میں آتی ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2001-2002 میں لڑکیوں کی شرحِ خواندگی 34 فیصد تھی، جو مالی سال 2004-2005 میں 35 فیصد تک پہنچ گئی۔ مالی سال 2007-2008 میں یہ شرح 44 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ مالی سال 2010-2011 میں 45 سے 46 فیصد کے درمیان رہی۔

 

 بعد ازاں مالی سال 2019-2020 میں لڑکیوں کی شرحِ خواندگی بڑھ کر 51 سے 52 فیصد تک جا پہنچی، جبکہ مالی سال 2024-2025 میں یہ شرح 52 سے 53 فیصد تک ریکارڈ کی گئی۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کے مواقع میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ کیا ان کی خودمختاری، فیصلہ سازی اور سماجی اختیار میں بھی اسی رفتار سے بہتری آ رہی ہے؟

 

میری ایک جاننے والی کی بیٹی میڈیکل کے بجائے انجینئرنگ میں داخلہ لینا چاہتی تھی، لیکن والدین کی خواہش کے باعث اسے میڈیکل میں داخلہ لینا پڑا۔ آج وہ اپنی تعلیم سے دلچسپی کھو چکی ہے اور اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہے۔ جب نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں اور دلچسپیوں کے مطابق راستہ منتخب کرنے کا موقع نہ ملے تو ان کی خوداعتمادی اور کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

 

یہ مسئلہ صرف تعلیم تک محدود نہیں۔ ہمارے معاشرے میں آج بھی بہت سی لڑکیوں کے رشتے ان کی مکمل رضامندی کے بغیر طے کر دیے جاتے ہیں، حالانکہ شادی زندگی کا ایک اہم فیصلہ ہے اور اس کا اختیار سب سے پہلے اسی فرد کو حاصل ہونا چاہیے جس کی زندگی اس سے متاثر ہوتی ہے۔

 

بچپن سے لڑکیوں کو اکثر یہ سکھایا جاتا ہے کہ "اچھی لڑکیاں خاموش رہتی ہیں" یا "لڑکیاں زیادہ بولیں تو اچھی نہیں لگتیں"۔

 

 

 ماہرِ نفسیات کے مطابق بچپن میں بار بار ملنے والے پیغامات شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر کسی لڑکی کو مسلسل خاموش رہنے، ہر بات برداشت کرنے اور اپنی رائے دبانے کی تلقین کی جائے تو ممکن ہے کہ وہ بڑی ہو کر بھی ناانصافی، ہراسانی یا استحصال کے خلاف کھل کر بات نہ کر سکے۔ یہی رویہ بعد میں ذہنی دباؤ، کم خود اعتمادی اور فیصلہ سازی میں مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔

 

اسی طرح جب کسی لڑکی کو جسمانی یا جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اکثر والدین یا خاندان کے افراد اسے خاموش رہنے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ اس کے مستقبل یا رشتوں پر اثر نہ پڑے۔ نتیجتاً جرم کرنے والا بچ جاتا ہے جبکہ متاثرہ فرد مزید ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتی ہے۔

 

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ لڑکیوں کی فیصلہ سازی میں شمولیت خاندان، بچوں کی تعلیم اور معاشی استحکام پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ ایک بااختیار لڑکی نہ صرف اپنی زندگی کے بہتر فیصلے کرتی ہے بلکہ اپنی آنے والی نسلوں میں بھی اعتماد اور شعور منتقل کرتی ہے۔

 

 

ہم اپنی بیٹیوں کو تعلیم تو دلانا چاہتے ہیں، مگر اکثر ان کے فیصلوں پر اعتماد نہیں کرتے۔ حالانکہ تعلیم کا اصل مقصد آزاد سوچ اور بہتر فیصلہ سازی کی صلاحیت  پیدا کرنا ہے، صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں۔

 

ضرورت اس امر کی ہے کہ لڑکیوں کو تعلیم کے ساتھ اختیار بھی دیں تاکہ وہ اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہو سکیں، اپنے فیصلے خود کر سکیں اور کسی دردناک کہانی کا انجام بننے کے بجائے اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے اڑان بھر سکیں۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔