خیبرپختونخوا میں مختلف ترقیاتی پروگراموں کے تحت جاری فنڈز کے استعمال کی شرح 90 فیصد سے زائد تک پہنچ گئی ہے جبکہ نئے ترقیاتی پروگرام میں صحت، تعلیم اور دیگر سماجی شعبوں کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سرکاری بریفنگ کے مطابق ایکسلریٹڈ امپلیمینٹیشن پروگرام (اے آئی پی) کے فنڈز کے استعمال کی شرح 92 فیصد رہی، جبکہ ضم شدہ اضلاع کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 94 فیصد اور خیبرپختونخوا اے ڈی پی میں 88 فیصد فنڈز استعمال کیے جا چکے ہیں۔ حکام کے مطابق جاری شدہ فنڈز کے سو فیصد استعمال کا ہدف جلد حاصل کر لیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: مردان: گوردوارے کے کمرے میں فائرنگ، سکھ میاں بیوی جاں بحق
یہ تفصیلات وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے زیر صدارت ترقیاتی فنڈز کے استعمال اور جاری منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق اجلاس میں سامنے آئیں، جس میں صوبائی اے ڈی پی، ضم شدہ اضلاع اے ڈی پی، اے آئی پی اور فارن فنڈڈ پورٹ فولیو کے تحت منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے ترقیاتی فنڈز کے مؤثر استعمال اور منصوبوں پر پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ صحت اور تعلیم موجودہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات ہیں اور نئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں ان شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پشاور کے ہسپتالوں پر بڑھتا ہوا دباؤ صحت کے شعبے میں مزید اقدامات کا متقاضی ہے اور عوام کو معیاری و بروقت طبی سہولیات کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے ہدایت کی کہ عوامی اہمیت کے حامل اور تکمیل کے قریب منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے تاکہ ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات جلد از جلد عوام تک پہنچ سکیں۔
