لکی مروت کی تحصیل سرائے نورنگ میں صرافہ ایسوسی ایشن کی اپیل پر ایف بی آر کی جانب سے نافذ کردہ متنازع ٹیکس قوانین کے خلاف صرافہ بازار مکمل طور پر بند رہا۔ صرافہ برادری نے ٹیکس پالیسیوں کو کاروبار دشمن قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا۔

 

اس موقع پر صرافہ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کے حالیہ قوانین اور ٹیکس اقدامات نے بالخصوص چھوٹے تاجروں اور صرافہ برادری کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تاجروں پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے کے بجائے کاروبار دوست پالیسیاں متعارف کرائی جائیں تاکہ تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے اور معیشت مستحکم ہو۔

 

یہ بھی پڑھیے: سوشل میڈیا پر سیاسی پوسٹیں فوری بلاک ہوسکتی ہیں تو غیر اخلاقی مواد کیوں نہیں؟ پشاور ہائیکورٹ

 

احتجاج کے دوران شرکاء نے "ایف بی آر کا کالا قانون نامنظور" اور "تاجر دشمن ٹیکس مسترد" کے نعرے لگائے۔ مقررین نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے تاجروں کے تحفظات دور نہ کیے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

 

صرافہ ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ تاجر برادری ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ تاجروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے اور متنازع ٹیکس قوانین پر نظرثانی کرے۔

 

بازار کی مکمل بندش کے باعث کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں، جبکہ تاجروں نے اپنے مطالبات کے حق میں بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔

 

یاد رہے کہ گزشتہ روز پشاور میں بھی صرافہ بازار مکمل طور پر بند رہا۔