پشاور ہائیکورٹ نے ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق دائر رِٹ پٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی سے رپورٹ طلب کر لی اور مزید سماعت ملتوی کر دی۔

 

سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی سیاسی پوسٹ حکومت بلاک کرنا چاہے تو اسے فوری طور پر بلاک کر دیا جاتا ہے، پھر غیر اخلاقی مواد کو روکنے میں کیا مشکلات درپیش ہیں؟

 

یہ بھی پڑھیے: 600 سے زائد پاکستانی ٹرک افغانستان میں پھنس گئے ہیں، ٹرانسپورٹرز کا احتجاج

 

درخواست گزار عمران کے وکیل بیرسٹر بابر شہزاد عمران نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد پر مبنی ویڈیوز اپ لوڈ کی جاتی ہیں، جس سے معاشرتی اقدار متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ایسے مواد کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

 

سماعت کے دوران عدالت نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے فائر وال کے حوالے سے طلب کی گئی رپورٹ کا بھی جائزہ لیا۔ پی ٹی اے کے وکیل جہانزیب محسود نے عدالت کو بتایا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے الگورتھمز صارفین کی دلچسپی کے مطابق مواد دکھاتے ہیں، اس لیے ایک بار کسی مخصوص نوعیت کی ویڈیو دیکھنے کے بعد اسی نوعیت کا مزید مواد صارف کے سامنے آتا رہتا ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ فائر وال کے حوالے سے مختلف خبریں گردش کرتی رہی ہیں، تاہم حقیقت میں ایسا کوئی فائر وال موجود نہیں۔ ان کے مطابق پی ٹی اے نے کروڑوں غیر اخلاقی ویڈیوز بلاک کی ہیں اور متعدد اکاؤنٹس کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے، تاہم کسی ایک مخصوص ویڈیو کو فوری طور پر مکمل طور پر کنٹرول کرنا تکنیکی طور پر آسان نہیں ہوتا۔

 

جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ سیاسی نوعیت کی پوسٹوں کے خلاف فوری کارروائی ممکن ہے تو غیر اخلاقی مواد کے معاملے میں بھی مؤثر اقدامات ہونے چاہییں۔

 

پی ٹی اے کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سوشل میڈیا کی نگرانی اور ضابطہ کاری کے لیے سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جا چکی ہے اور اب یہ ادارہ اس حوالے سے معاملات دیکھ رہا ہے۔

 

عدالت نے مذکورہ اتھارٹی سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔