افغانستان میں گزشتہ نو ماہ سے پھنسے پاکستانی ٹرکوں کی وطن واپسی میں تاخیر پر ٹرانسپورٹرز نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کی دھمکی دے دی ہے۔

ڈسٹرکٹ پریس کلب خیبر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرانسپورٹرز رہنماؤں رحمان زیب آفریدی، بلاول آفریدی اور ہمایون شینواری نے کہا کہ اگر کل تک مسئلہ حل نہ ہوا تو احتجاجاً پاک افغان شاہراہ پر افغان پناہ گزینوں کی گاڑیوں کی آمدورفت بند کر دی جائے گی۔

 

رہنماؤں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کمشنر پشاور ریاض محسود کی سربراہی میں کمشنر آفس پشاور میں افغان قونصل خانے کے نمائندوں اور متعلقہ حکام کے درمیان جرگہ ہوا تھا، جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ 11 جون سے افغانستان میں پھنسے پاکستانی ٹرکوں کو طورخم بارڈر کے راستے واپسی کی اجازت دی جائے گی۔

 

یہ بھی پڑھیں: غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی سے متعلق خیبرپختونخوا حکومت کا اہم فیصلہ

 

 

ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے بعد ٹرانسپورٹرز نے حکام کا شکریہ ادا کیا تھا، تاہم 11 جون گزرنے کے باوجود کسی بھی گاڑی کو واپس آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

ٹرانسپورٹرز رہنماؤں کے مطابق ضلع خیبر کی 600 سے زائد گاڑیاں گزشتہ نو ماہ سے افغانستان میں کھڑی ہیں، جس کے باعث مالکان شدید مالی مشکلات اور فاقہ کشی جیسے حالات کا شکار ہیں۔

 

 

انہوں نے مزید کہا کہ متعدد بار افغان قونصل خانے سمیت مختلف فورمز سے رابطے کیے گئے لیکن کوئی مثبت پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر ٹرانسپورٹرز نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستانی ٹرکوں کو فوری طور پر واپسی کی اجازت دی جائے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔