خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے محکمہ داخلہ و قبائلی امور نے غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی، جس میں متعلقہ اداروں کے حکام نے انہیں جاری اقدامات اور تازہ ترین صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ غیر قانونی غیر ملکیوں کے لیے قائم کیمپس اب صرف پشاور، چارسدہ، کوہاٹ اور ہنگو میں فعال ہیں، جبکہ ویزا اور قیام (سٹے) سے متعلق زیر التوا کیسز کے بارے میں بھی شرکاء کو آگاہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں بارشوں، آندھی اور ژالہ باری کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا
معاونِ خصوصی نے تمام ڈپٹی کمشنرز، اسپیشل برانچ اور پولیس حکام کو ہدایت کی کہ غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی کے عمل کو مزید تیز کرتے ہوئے جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ انہوں نے باقی ماندہ کیمپس والے اضلاع کو خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ 30 سے 45 روز کے اندر اس عمل کو مکمل کرکے پیش رفت رپورٹ پیش کی جائے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وطن واپسی کے عمل کے دوران تمام افراد کی عزتِ نفس، انسانی وقار اور بنیادی حقوق کا مکمل خیال رکھا جائے، جبکہ ضروری سہولیات اور دیگر لوازمات کی فراہمی بھی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔
اجلاس میں معاونِ خصوصی نے متعلقہ حکام کو غیر قانونی غیر ملکیوں کی املاک کے خلاف جاری کارروائیوں میں مزید تیزی لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی کے عمل کو مؤثر، منظم اور شفاف انداز میں مکمل کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے محرم الحرام کے بعد آئندہ اجلاس منعقد کیا جائے گا۔
