بنوں کے علاقے پیرات کلہ ممہ خیل سے تعلق رکھنے والے دو افراد نے اپنے لاپتہ رشتہ داروں سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے، جن کے بارے میں پولیس ذرائع سے ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
بنوں پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اختر علی خان نے بتایا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو ایف اے تک تعلیم دلوائی، تاہم وہ گزشتہ آٹھ سے نو ماہ سے لاپتہ ہے۔
ان کے مطابق حال ہی میں پولیس ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ان کا بیٹا مبینہ طور پر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا ہے، جس کے بعد وہ اس سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کیا خیبرپختونخوا حکومت مالی سال 26-27 کیلئے دو بجٹ فارمولے پر عمل کرے گی؟
اسی موقع پر زبیر خان نے بتایا کہ ان کا 14 سالہ یتیم بھتیجا عبداللہ ولد شاہجہان بھی گزشتہ آٹھ سے نو ماہ سے لاپتہ ہے۔ ان کے بقول پولیس ذرائع نے آگاہ کیا ہے کہ وہ بھی مبینہ طور پر ایسی سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے، جس پر انہوں نے بھی اپنے بھتیجے سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں کی گمشدگی کی رپورٹس پہلے ہی تھانہ ہوید میں درج کرائی جا چکی تھیں اور اہل خانہ طویل عرصے سے ان کی تلاش میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں پہلے اس نوعیت کے کسی خدشے کا علم ہوتا تو وہ فوری طور پر متعلقہ اداروں کو آگاہ کرتے۔
پریس کانفرنس میں دونوں افراد نے کہا کہ ان کا تعلق غریب اور محنت کش خاندانوں سے ہے اور وہ اپنے رشتہ داروں کی مبینہ سرگرمیوں میں کسی قسم کی شمولیت یا حمایت نہیں رکھتے۔ انہوں نے اعلیٰ پولیس حکام، ضلعی امن کمیٹی اور مقامی انتظامیہ سے اپیل کی کہ انہیں بلاجواز ہراسانی سے محفوظ رکھا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر ان کے بیٹے یا بھتیجے کے خلاف کوئی شواہد موجود ہیں تو وہ ان کے کسی بھی عمل کے ذمہ دار نہیں ہیں اور نہ ہی حمایت کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران تقریباً 15 ایسے پریس کانفرنسز منعقد ہو چکی ہیں جن میں مقامی افراد نے اپنے اہل خانہ کے مبینہ طور پر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی اطلاعات کے بعد ان سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔ ان میں سے 8 پریس کانفرنسز پولیس اور امن کمیٹی کی جانب سے منعقد کرائی گئیں۔
