ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں آل طورخم کسٹم کلئیرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن نے طورخم بارڈر کی طویل بندش کے خلاف 2 اگست کو احتجاجی جلسہ عام منعقد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے بارڈر فوری طور پر نہ کھولا اور مطالبات تسلیم نہ کیے تو لنڈی کوتل بازار اور پاک افغان شاہراہ کو احتجاجاً بند کر دیا جائے گا۔

 

رہنماؤں نے کہا کہ طورخم بارڈر کی بندش کے باعث گزشتہ کئی ماہ سے تاجر، کسٹم کلئیرنگ ایجنٹس، ٹرانسپورٹرز اور مزدور شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں جبکہ ہزاروں خاندانوں کا روزگار متاثر ہوا ہے۔ 

 

ان کا کہنا تھا کہ مسئلے کے حل کے لیے متعلقہ حکام سے متعدد بار رابطے کیے گئے، ہر فورم پر آواز اٹھائی اور احتجاج بھی کیے، مگر تاحال کوئی عملی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

 

یہ بھی پڑھیے: پشاور: نانبائی ایسوسی ایشن حکومت سے روٹی کے نرخ بڑھانے کا مطالبہ کیوں کر رہی ہے؟

 

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ طورخم بارڈر کو فوری طور پر کھولا جائے تاکہ سرحدی تجارت بحال ہو اور متاثرہ خاندانوں کا روزگار دوبارہ چل سکے۔ 

 

رہنماؤں نے باڑہ کی تاجر برادری کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی بھی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور سیاسی و سماجی کارکنوں، تاجروں، مزدوروں، ٹرانسپورٹرز، منتخب عوامی نمائندوں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ 2 اگست کو صبح 10 بجے لنڈی کوتل بازار کے باچا خان چوک میں ہونے والے احتجاجی جلسے میں بھرپور شرکت کریں۔

 

معراج الدین شینواری نے کہا کہ متعلقہ ادارے عوامی مشکلات سے آگاہ ہونے کے باوجود خاموش ہیں، جس کے باعث متاثرہ افراد سڑکوں پر آنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مسئلہ حل نہ کیا گیا تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔

 

یہ اعلان ڈسٹرکٹ پریس کلب لنڈی کوتل میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا، جس سے آل طورخم کسٹم کلئیرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر مجیب شینواری، معراج شینواری، معراج الدین شینواری، ٹرانسپورٹ یونین، مزدور یونین اور دیگر نمائندوں نے خطاب کیا۔