کبھی کبھی زندگی ہمیں ایسے مناظر دکھا دیتی ہے جو چند لمحوں پر مشتمل ہوتے ہیں، مگر ان کا اثر بہت دیر تک دل میں باقی رہتا ہے۔ کچھ دن پہلے میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔

 

میں معمول کے مطابق میٹرو بس میں سوار ہونے لگی۔ خواتین کے حصے میں رش تو تھا، لیکن سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا۔ اچانک دروازہ کھلا اور ایک خواجہ سرا اندر داخل ہوا۔

 

بس پھر کیا تھا، چند ہی لمحوں میں پورا ماحول بدل گیا۔ کچھ لڑکیاں گھبرا کر ایک دوسرے سے چمٹ گئیں، کچھ نے فوراً اپنا راستہ بدل لیا، اور کئی آوازیں ایک ساتھ بلند ہونے لگیں، “براہِ مہربانی، آپ مردوں والے حصے میں چلے جائیں۔”

 

یہ بھی پڑھیے: سونا پھر مہنگا، نئی قیمت کتنی ہوگئی؟

 

وہ خاموشی سے مڑا اور مردوں والے حصے کی طرف بڑھ گیا۔ مگر وہاں پہنچ کر بھی اسے سکون نہ ملا۔ مردوں نے بھی یہی کہا، “آپ ادھر نہ آئیں، واپس خواتین والے حصے میں چلے جائیں۔”میں چند لمحوں کے لیے بالکل خاموش رہ گئی۔ میرے ذہن میں صرف ایک سوال گونج رہا تھا کہ آخر یہ انسان جائے تو جائے کہاں؟

 

 

ہم سب جانتے ہیں کہ میٹرو بسوں میں خواجہ سرا افراد کے لیے مخصوص نشستیں رکھی گئی ہیں۔ یہ اس لیے کیا گیا تاکہ وہ بھی دوسرے شہریوں کی طرح عزت اور سکون کے ساتھ سفر کر سکیں۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر ان نشستوں پر کوئی اور بیٹھا ہوتا ہے، اور جب اصل حقدار آتا ہے تو اسے اپنی ہی جگہ حاصل کرنے کے لیے دوسروں سے درخواستیں کرنا پڑتی ہیں۔

 

اسی دن بھی یہی ہوا۔ ان کی مخصوص نشست پر ایک اور شخص بیٹھا ہوا تھا۔ آخرکار ہم نے سیکیورٹی گارڈ کو بلایا، اس شخص کو وہاں سے اٹھایا گیا، اور پھر اس خواجہ سرا کو اس کی مخصوص نشست پر بٹھایا گیا۔

 

لیکن میرے لیے اصل منظر اس کے بعد شروع ہوا۔ جب وہ بیٹھا تو میں نے پہلی بار غور سے اس کے چہرے کو دیکھا۔ وہ مسلسل اپنے ناخن دانتوں سے کتر رہا تھا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس نے کسی سے جھگڑا کیا، نہ کسی سے الجھا اور نہ ہی کسی پر غصہ کیا۔ وہ صرف خاموش بیٹھا تھا، مگر اس کی خاموشی شاید ہزار لفظوں سے زیادہ بول رہی تھی۔

 

 

اس لمحے میرے دل میں ایک عجیب سا احساس پیدا ہوا۔ میں سوچنے لگی کہ شاید یہ پہلی بار نہیں تھا جب اسے یہ سننا پڑا ہو کہ "تمہاری جگہ یہاں نہیں۔" شاید یہ جملہ اس کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہو۔

 

ہم اکثر خواجہ سرا افراد کو دیکھتے ہی ان کے بارے میں اپنی رائے قائم کر لیتے ہیں۔ بعض لوگ انہیں مذاق سمجھتے ہیں، کچھ ان سے خوف محسوس کرتے ہیں، اور کچھ صرف اس لیے ان سے دور رہتے ہیں کہ وہ دوسرے لوگوں سے مختلف نظر آتے ہیں۔ لیکن شاید ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ مختلف ہونا کسی انسان کا جرم نہیں ہوتا۔

 

ہر انسان کی سب سے بنیادی ضرورت صرف روٹی، کپڑا یا رہائش نہیں ہوتی، بلکہ عزت بھی ہوتی ہے۔ جب کسی کو بار بار یہ احساس دلایا جائے کہ وہ کہیں کا نہیں، تو یہ احساس اس کے اندر ایک گہرا زخم چھوڑ جاتا ہے۔

 

خواجہ سرا برادری کی زندگی ویسے ہی آسان نہیں۔ تعلیم، ملازمت، صحت اور روزگار جیسے بنیادی شعبوں میں انہیں پہلے ہی بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں اگر روزمرہ کے ایک عام سفر میں بھی انہیں اپنی جگہ کے لیے جدوجہد کرنی پڑے تو یہ صرف ان کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی سوچ کا مسئلہ ہے۔

 

 

یہ بات بھی درست ہے کہ ہر طبقے میں اچھے اور برے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ جیسے ہر مرد ایک جیسا نہیں ہوتا اور ہر عورت ایک جیسی نہیں ہوتی، ویسے ہی ہر خواجہ سرا بھی ایک جیسا نہیں ہوتا۔ چند افراد کے رویے کی بنیاد پر پوری برادری کے بارے میں فیصلہ کر لینا انصاف نہیں۔

 

مجھے اس دن سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی ہوئی کہ بس میں موجود کسی شخص نے یہ نہیں سوچا کہ جس انسان کو ہم ایک طرف سے دوسری طرف بھیج رہے ہیں، اس کے دل پر کیا گزر رہی ہوگی۔ سب کو صرف اپنی جگہ عزیز تھی، مگر کسی نے اس کی جگہ کے بارے میں نہیں سوچا۔

 

ہم اکثر کہتے ہیں کہ ہمیں سب کے حقوق کا احترام کرنا چاہیے، لیکن حقوق صرف قانون کی کتابوں میں لکھ دینے سے نہیں ملتے، بلکہ ہمارے رویوں سے ملتے ہیں۔ اگر کسی کے لیے مخصوص نشست موجود ہے تو اسے وہاں عزت اور احترام کے ساتھ بیٹھنے دینا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔

 

 

اس دن جب میں گھر واپس آئی تو وہ منظر میرے ذہن سے نہیں نکل رہا تھا۔ بار بار اس کے کانپتے ہوئے ہاتھ، جھکی ہوئی نظریں اور خاموش چہرہ یاد آ رہا تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ بعض اوقات انسان کو سب سے زیادہ تکلیف جسمانی نہیں ہوتی، بلکہ وہ جملے دیتے ہیں جو اسے یہ احساس دلاتے ہیں کہ شاید اس دنیا میں اس کی کوئی جگہ ہی نہیں۔

 

شاید ہم پورا معاشرہ ایک دن میں نہیں بدل سکتے، لیکن اپنے رویے ضرور بدل سکتے ہیں۔ اگلی بار اگر ہماری ملاقات کسی خواجہ سرا سے ہو تو کم از کم اسے اس حق سے محروم نہ کریں جو پہلے ہی اس کے لیے مقرر کیا جا چکا ہے۔ کیونکہ کسی انسان کو اس کا حق دینا احسان نہیں، انصاف ہے۔ اور انصاف تب ہی مکمل ہوتا ہے جب اس کے ساتھ عزت، احترام اور قبولیت بھی شامل ہو۔

 

شاید اس دن میٹرو میں بیٹھا وہ خواجہ سرا صرف اپنی مخصوص نشست تک پہنچا تھا، مگر میرے دل میں ایک ایسا سوال چھوڑ گیا جس کا جواب آج بھی میرے پاس نہیں۔

آخر اگر ہر طرف سے یہی کہا جائے کہ "تمہاری جگہ یہاں نہیں"، تو پھر ایک انسان اپنی جگہ تلاش کرے بھی تو کہاں؟

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔