پشاور ہائیکورٹ نے شاہ پور کے قبرستان میں قرآن پاک کے اوراق جلانے، کتے کا خون بہانے اور مبینہ جادو ٹونے کی غرض سے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث قرار دیے گئے ملزم کی عمر قید کی سزا برقرار رکھتے ہوئے اس کی اپیل خارج کر دی۔
49 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے تحریر کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ جادو جیسا سنگین فعل نہ صرف اسلامی تعلیمات بلکہ ملکی قانون کے بھی خلاف ہے، اس لیے ملزم کسی رعایت کا مستحق نہیں۔
فیصلے کے مطابق 7 مئی 2021 کو عبد الرحیم اور دیگر افراد پشاور کی تھانہ شاہ پور کی حدود میں واقع قبرستان میں موجود تھے، جہاں انہوں نے دو افراد کو مشتبہ سرگرمیوں میں مصروف دیکھا۔
یہ بھی پڑھیے: بنوں: والد نے بیٹے سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا، وجہ کیا بنی؟
ان کے مطابق ملزمان قرآن پاک کے اوراق جلا رہے تھے اور ایک کتے کا خون ان پر ٹپکا رہے تھے۔ موقع پر موجود افراد نے یوسف اور عثمان نامی ملزمان کو قابو کر کے پولیس کے حوالے کر دیا۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے جلائے گئے اوراق، ایک چھری اور دیگر شواہد برآمد کیے، جبکہ زخمی کتے کو بھی تحویل میں لیا گیا۔ ٹرائل کے دوران جرم ثابت ہونے پر دونوں ملزمان کو عمر قید سمیت دیگر سزائیں سنائی گئیں۔

پشاور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اسلام میں جادو، شیطانی قوتوں سے مدد لینے اور توہم پرستی پر مبنی سرگرمیوں کی سخت ممانعت ہے۔ عدالت نے کہا کہ قبرستان جانا جائز ہے، تاہم وہاں جادو ٹونے یا اس نوعیت کی دیگر سرگرمیوں میں ملوث ہونا شرعاً حرام اور قانوناً جرم ہے، جو مذہبی عقائد اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔
فیصلے میں قرآن پاک کی مختلف آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ جادو اختیار کرنے والوں کے لیے آخرت میں کوئی بھلائی نہیں اور جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔
عدالت نے حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ایک حدیث کا بھی حوالہ دیا، جس میں نبی کریم ﷺ نے سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے، جن میں جادو بھی شامل ہے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ نجومیوں، قسمت بتانے والوں اور غیب کی خبریں دینے کے دعویداروں سے رجوع کرنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے، جبکہ اس قسم کی سرگرمیاں جہالت، گمراہی اور عقیدے کی کمزوری کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
تحریری فیصلے کے مطابق سزا کے خلاف صرف ملزم عثمان نے اپیل دائر کی تھی، جبکہ دوسرے ملزم نے سزا کو چیلنج نہیں کیا۔ عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد عثمان کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔
