بنوں کے علاقے سورانی کے رہائشی عجب نور خان نے اپنے بیٹے عبدالسلام کی مبینہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں شمولیت کے بعد اس سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے حکومت اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ بیٹے کے کسی بھی غیر قانونی عمل کی ذمہ داری ان پر عائد نہ کی جائے۔
بنوں پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عجب نور خان نے کہا کہ وہ ایک پرامن، قانون پسند اور ملک کے وفادار شہری ہیں اور ہمیشہ ریاستی اداروں اور ملکی قوانین کا احترام کرتے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کیا دن بھر کچھ نہ کچھ کھاتے رہنا آپ کی صحت پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے؟
انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے عبدالسلام نے دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کی، بعد ازاں اسے دینی مدرسے میں بھی داخل کرایا گیا، تاہم کچھ عرصے سے وہ مبینہ طور پر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہو گیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کا اپنے بیٹے کی سرگرمیوں یا اقدامات سے کوئی تعلق نہیں اور وہ اس سے مکمل طور پر لاتعلق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عبدالسلام مستقبل میں سرینڈر کرکے واپس آتا ہے تو وہ خود اسے ریاستی اداروں کے حوالے کریں گے تاکہ قانون کے مطابق اس کے بارے میں فیصلہ کیا جا سکے۔
عجب نور خان نے اپنے رشتہ داروں، دوستوں اور علاقے کے عوام کو بھی آگاہ کیا کہ وہ اور ان کا بیٹا ایک دوسرے سے مکمل طور پر الگ اور آزاد ہیں، لہٰذا بیٹے کی کسی بھی سرگرمی یا عمل کی ذمہ داری ان پر عائد نہیں ہوتی۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ملک، آئین اور ریاستی اداروں کے ساتھ اپنی وفاداری برقرار رکھیں گے اور ہر حال میں قانون کی پاسداری کریں گے۔
