اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم عمر حیات کو سزائے موت دے دی ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد افضل مجوکہ نے کیس کا فیصلہ سنایا۔
یہ بھی پڑھیے: بنوں: ماں کا بیٹے سے تعلق ختم کرنے کا اعلان، وجوہات سامنے آ گئیں
عدالت نے ملزم پر 24 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا اور 21 سال قید بامشقت کی سزا بھی سنائی ہے۔
سماعت کے دوران عدالت میں ملزم اور مقتولہ کے درمیان ہونے والی کالز اور چیٹ کے اسکرین شاٹس بھی بطور ثبوت پیش کیے گئے۔
مدعی کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ ملزم عمر حیات کو دو بار سزائے موت دی جائے۔
دوسری جانب ملزم کے وکیل نے کہا کہ عمر حیات نے اسٹیٹ کونسل اور ٹرائل کورٹ پر اعتماد نہ ہونے کا اظہار کیا ہے، اور اس حوالے سے دو درخواستیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں پہلے سے زیر سماعت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہی یہ طے کر لینا کہ ملزم کو سزائے موت دی جانی ہے، انصاف کے خلاف ہوگا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ثناء یوسف قتل کیس کی سماعت کے دوران ملزم عمر حیات نے جرم قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔
سماعت میں ملزم نے عدالت کو بتایا کہ اس نے ثناء یوسف کے قتل کا نہ کوئی اعتراف کیا ہے اور نہ ہی کوئی انکشاف۔
ملزم نے یہ بھی کہا کہ اس کا ثناء یوسف سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔ اس پر جج نے سوال کیا کہ تفتیش کے دوران ثناء یوسف کے فون سے “کاکا” کے نام سے ایک نمبر سامنے آیا تھا، اور موبائل فارنزک میں وہ نمبر آپ کا نکلا، اس پر آپ کیا کہیں گے؟
ملزم نے جواب دیا کہ وہ اپنے وکیل کے بغیر اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے۔
یاد رہے کہ ثناء یوسف کو 2 جون 2025 کو اسلام آباد میں ان کے گھر کے اندر قتل کیا گیا تھا۔واقعے کے بعد ملزم عمر حیات کو 3 جون 2025 کو جڑانوالہ سے گرفتار کر لیا گیا تھا۔
