بنوں پریس کلب میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران بھرت خاص کی رہائشی آمنہ بی بی نے اپنے بیٹے ثاقب سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل کی ہے کہ ان کے خاندان کو بلاجواز ہراسانی سے محفوظ رکھا جائے۔

 

آمنہ بی بی، جو مرحوم حبیب اللہ کی بیوہ ہیں، نے بتایا کہ ان کا بیٹا ثاقب 2010 میں گھر چھوڑ کر چلا گیا تھا اور اس کے بعد سے اس کا خاندان سے کوئی رابطہ نہیں۔ ان کے مطابق بیٹے نے والدین کی مرضی کے برعکس راستہ اختیار کیا اور وہ اب خاندان کا حصہ نہیں رہا۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں ایک اور سہولت کا آغاز، جسدِ خاکی کی منتقلی اب مفت ہوگی

 

انہوں نے کہا کہ بیٹے کے مبینہ کردار کے باعث پورے خاندان کو شدید مشکلات، دباؤ اور معاشی تنگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کے مطابق گھر کو نقصان پہنچا، جبکہ خاندان کے دیگر افراد کو بھی مختلف نوعیت کی مشکلات کا سامنا رہا۔

 

آمنہ بی بی نے الزام عائد کیا کہ ان کے خاندان کے افراد کو متعدد بار حراست میں لیا گیا اور بعد ازاں قانونی اخراجات کے باعث رہائی حاصل کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل دباؤ اور خوف کے باعث خاندان شدید ذہنی اور معاشی اذیت کا شکار ہے۔

 

انہوں نے مزید بتایا کہ حالات کے پیش نظر خاندان نے عارضی طور پر کراچی ہجرت بھی کی، تاہم معاشی مشکلات کے باعث دوبارہ بنوں واپس آنا پڑا۔

 

اپنے پوتے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بار بار تعلیمی ادارے تبدیل کرنے سے اس کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے، جس سے اس کا مستقبل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔

 

آمنہ بی بی نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ ان کے خاندان کو کسی فرد کے مبینہ جرائم کی بنیاد پر نشانہ نہ بنایا جائے اور انہیں پرامن زندگی گزارنے دی جائے۔

 

واضح رہے کہ گزشتہ 11 دنوں کے دوران بنوں میں کالعدم تنظیم سے مبینہ وابستگی پر لاتعلقی کا یہ چوتھا کیس سامنے آیا ہے۔