خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں بچوں کے استحصال اور منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان نے تشویش پیدا کر دی ہے۔

 

 ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نوشہرہ کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کم عمر بچوں کو گداگری اور منشیات کے معاملات میں استعمال کیے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔

 

پولیس رپورٹ کے مطابق 18 سال سے کم عمر بچوں سے آئس اور دیگر منشیات برآمد ہونے پر تین مقدمات درج کیے گئے۔ اسی طرح چھ بچوں کو گداگری کرتے ہوئے پکڑا گیا جنہیں بعد میں محکمہ سماجی بہبود کے حوالے کر دیا گیا۔ گداگری کے رجحان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر 23 مقدمات درج کیے گئے۔

 

یہ بھی پڑھیے: جامعہ پشاور کے ملازمین رمضان میں تنخواہوں اور پنشن سے کیوں محروم؟

 

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ضلع میں منشیات فروشی کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں۔ گزشتہ سال منشیات فروشوں کے خلاف 2504 مقدمات درج کیے گئے جبکہ 2542 افراد کو گرفتار کر کے ان کے خلاف چالان عدالتوں میں جمع کرائے گئے۔

 

کارروائیوں کے دوران پولیس نے بڑی مقدار میں منشیات بھی برآمد کیں جن میں 3440 کلوگرام چرس، 515 کلوگرام آئس، 37 کلوگرام افیون اور 35 کلوگرام ہیروئن شامل ہیں۔

 

رواں سال بھی کارروائیاں جاری ہیں اور اب تک 347 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔ اس عرصے کے دوران 634 کلوگرام چرس، 93 کلوگرام آئس اور 5 کلوگرام ہیروئن برآمد کی گئی ہے۔

 

ڈی پی او نوشہرہ کی رپورٹ میں پولیس کو درپیش قانونی اور تفتیشی مشکلات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تفتیشی افسران کی درخواست کے باوجود ملزمان کو اکثر پولیس ریمانڈ پر نہیں دیا جاتا جس کے باعث تفتیش متاثر ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ منشیات کے مقدمات میں عدالتوں کی جانب سے ملزمان کو بار بار ضمانتیں ملنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال منشیات فروشی کے مقدمات میں 1011 افراد کو سزائیں سنائی گئیں تاہم اس کے باوجود ایک ہزار سے زائد مقدمات اب بھی زیر التوا ہیں۔

 

ڈی پی او نوشہرہ نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ بچوں کو منشیات فروشی اور استعمال میں ملوث کرنے کے خلاف سخت قانون سازی کی جائے تاکہ اس رجحان کو مؤثر طریقے سے روکا جا سکے۔

 

ماہرین کے مطابق اگر بچوں کو منشیات اور گداگری جیسے جرائم سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ مستقبل میں مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔