پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب پورا خطہ پہلے ہی غیر یقینی اور تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ 

 

پاکستان نے حالیہ مہینوں میں افغانستان کے اندر کارروائیاں اس وقت شروع کیں جب افغان طالبان نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف کارروائی سے معذرت کرتے ہوئے اسے پاکستان کا اندرونی مسئلہ قرار دیا۔ 

 

دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سیاست کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔

 

بظاہر یہ واقعات جنوبی ایشیا سے دور نظر آتے ہیں، مگر ان کے اثرات اس خطے تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ اگر ایران کو اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ کشیدگی میں بڑا نقصان ہوتا ہے تو اس سے پورے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ سکتا ہے۔

 

 اگر ایران کمزور ہو جاتا ہے یا وہاں ایسی حکومت آ جاتی ہے جو اسرائیل کے ساتھ زیادہ قریب ہو، تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ جنوبی ایشیا کی سکیورٹی صورتحال بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: بنوں: لڑکوں کا روپ اپنانے پر لڑکی پر مسلح افراد کا تشدد، حقیقت کیا ہے؟

 

ایسی صورت میں پاکستان اور افغانستان دونوں پر بیرونی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔ دونوں ممالک نے اب تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ اس کی بنیادی وجہ فلسطینی عوام کی حمایت اور اسرائیل کی جانب سے فلسطینی علاقوں اور مشرقی یروشلم پر قبضے کی مخالفت ہے، جہاں مسجد اقصیٰ واقع ہے جو اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔

 

گزشتہ چند برسوں میں اسرائیل نے جدید ٹیکنالوجی، مضبوط انٹیلی جنس نظام اور سرحدوں سے باہر فوجی کارروائیوں کے ذریعے خطے میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ امریکہ کی سیاسی اور فوجی حمایت نے بھی اسے مزید طاقت فراہم کی ہے۔

 

ایران سے وابستہ گروہوں، جیسے غزہ میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ، کو کمزور کرنے کی کوششیں اور ایرانی فوجی و سیاسی قیادت کو نشانہ بنانے کے واقعات اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس آج کی جنگوں میں فیصلہ کن کردار ادا کر رہے ہیں۔ بعض ناقدین کے مطابق اسرائیل کی یہ پالیسیاں خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو مزید وسعت دینے کی ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ بھی ہو سکتی ہیں۔

 

اگر ایران کا اثر و رسوخ کم ہوتا ہے تو اسرائیل کے لیے خطے میں زیادہ آزادی سے کام کرنا آسان ہو سکتا ہے۔ ایسی تبدیلیاں صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ ان کے اثرات افغانستان اور پاکستان تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

 

افغانستان میں اس وقت طالبان کی حکومت ہے جو پہلے ہی عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے۔ اگر خطے میں طاقت کا توازن مزید بدلتا ہے تو کابل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ دوحہ معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی سرزمین کو عسکریت پسند گروہوں کے استعمال سے روکے۔ 

 

بعض تجزیہ کار یہ خدشہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ اگر ایران کی سیاست میں بڑی تبدیلی آتی ہے تو امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان کے بارے میں اپنی پالیسی پر دوبارہ غور کر سکتے ہیں اور اس کے خلاف ایک نئی جنگ بھی چھیڑ سکتے ہیں۔

 

دوسری جانب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بھی حالیہ برسوں میں کشیدہ رہے ہیں۔ اسلام آباد بارہا یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اور بعض بلوچ عسکریت پسند افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔

 

ان الزامات نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو مزید کمزور کیا ہے، حالانکہ موجودہ حالات میں دونوں کے درمیان تعاون پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔

 

بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں پاکستان کو بھی نئے سفارتی اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے پاکستان اور اسرائیل کے درمیان کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ پاکستان کے جوہری پروگرام اور میزائل صلاحیتوں کو بھی بعض ممالک سکیورٹی کے تناظر میں تشویش کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

 

اگر خطے میں اسرائیل کا اثر و رسوخ مزید بڑھتا ہے تو وہ امریکہ اور بھارت جیسے ممالک کے ساتھ مل کر پاکستان پر بین الاقوامی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ماضی میں ایران کو بھی اسی طرح پابندیوں اور عالمی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

 

 اس کے علاوہ پاکستان کے مخالفین بلوچ شورش پسندوں کی حمایت کے لیے ایران کی سرزمین استعمال کرنے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں۔

 

ایسی صورتحال میں پاکستان کو بیک وقت کئی محاذوں پر دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے: ایک طرف بھارت کے ساتھ کشیدگی، دوسری طرف افغانستان کے ساتھ سرحدی دراندازی، اور تیسری طرف ایران میں ممکنہ سیاسی تبدیلیوں کے اثرات۔

 

افغانستان خود بھی شدید معاشی مشکلات اور عالمی تنہائی کا شکار ہے، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان مسلسل کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں۔پالیسی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعاون ہی دونوں کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند راستہ ہو سکتا ہے۔

 

سب سے پہلے، دونوں ممالک کو سرحد پار عسکریت پسندی کے مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنا ہوگا۔ تحریک طالبان پاکستان جیسے گروہ اس وقت دونوں ممالک کے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

 

دوسرا، دونوں ملکوں کو سفارتی رابطوں کو مضبوط بنانا چاہیے تاکہ سرحدی واقعات بڑے تنازعات میں تبدیل نہ ہوں۔ باقاعدہ بات چیت اور مستقل رابطہ غلط فہمیوں کو کم کر سکتے ہیں۔

 

تیسرا، خطے کے ممالک کو افغانستان کی عالمی تنہائی کم کرنے میں کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ وہاں استحکام آئے اور حکومت اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز میں نبھا سکے۔ ایک مستحکم افغانستان دراصل پاکستان کے مفاد میں بھی ہے۔

 

حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی سیاست تیزی سے بدل رہی ہے اور ایسے حالات میں کمزور یا تنہا ممالک کے لیے خود کو محفوظ رکھنا آسان نہیں ہوتا۔پاکستان اور افغانستان کے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بڑھائیں، اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں اور خطے میں استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔

 

تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں وہی ممالک کامیاب ہوتے ہیں جو بروقت فیصلے کرتے ہیں اور دور اندیشی کے ساتھ اپنی حکمت عملی ترتیب دیتے ہیں۔