خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال دن بہ دن تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے باعث حکومت کو ہنگامی اقدامات اٹھانا پڑ رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت ہونے والے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں سکیورٹی اداروں اور سیاسی قیادت کے درمیان باہمی ہم آہنگی بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس اشتراکِ عمل سے حالات کو بہتری کی جانب لے جانے میں مدد ملے گی۔
اس وقت صوبے کے تین اضلاع خیبر، کرم اور شمالی وزیرستان ایسے ہیں جہاں فوری اور فیصلہ کن کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے۔
ضلع خیبر: وادی تیراہ میں ٹارگٹڈ آپریشن کی تیاری
ضلع خیبر، جو وزیر اعلیٰ کا آبائی ضلع بھی ہے، اس وقت سکیورٹی فورسز کی خصوصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ وادی تیراہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر ٹارگٹڈ آپریشن کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
اسسٹنٹ کمشنر باڑہ طلحہ رفیق اسلم کے مطابق متاثرہ علاقوں کے تقریباً 80 فیصد مکین نقل مکانی کر چکے ہیں۔ اب تک لگ بھگ 18 ہزار خاندان، یعنی ایک لاکھ سے زائد افراد، اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں، جبکہ 15 سے 20 فیصد خاندان تاحال علاقے میں موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: خیبر: جمرود امن جرگہ، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے وادی تیراہ سے متعلق تین اہم اور فیصلہ کن اعلانات
انہوں نے بتایا کہ متاثرین کو فوری مالی امداد کی فراہمی کے لیے ای سمز دی جا رہی ہیں، جن کے ذریعے فی خاندان دو لاکھ 55 ہزار روپے کی ابتدائی رقم ادا کی جا رہی ہے، جبکہ اس کے بعد ماہانہ امدادی رقوم بھی منتقل کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ نقل مکانی کے دوران ٹرانسپورٹ کے تمام اخراجات حکومت برداشت کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر انخلاء کی ڈیڈ لائن 25 جنوری مقرر کی گئی تھی، تاہم شدید سرد موسم کے باعث نقل مکانی کا عمل متاثر ہوا۔ بعد ازاں 5 فروری کی نئی تاریخ دی گئی، مگر مکمل انخلاء ممکن نہ ہو سکا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ باقی ماندہ خاندانوں کو رمضان تک مہلت دینے پر غور کیا جا رہا ہے، جس کے بعد آپریشن کا باقاعدہ آغاز متوقع ہے۔
ضلع کرم: وسطی علاقوں سے بڑے پیمانے پر انخلاء
ضلع کرم میں بھی سکیورٹی خدشات کے پیش نظر آپریشن کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ وسطی کرم کے 42 دیہات خالی کرائے جا رہے ہیں، جن میں زیمشت، علی شیرزئی اور مسوزئی شامل ہیں۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق اب تک 18 ہزار سے زائد افراد نقل مکانی کر چکے ہیں، جن کے لیے بگن ڈگری کالج اور صدہ میں عارضی کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ حکومت نے کرم کے متاثرین کے لیے بھی وہی امدادی پیکج دینے کا اعلان کیا ہے جو تیراہ کے متاثرین کو فراہم کیا جا رہا ہے، جس پر جلد عمل درآمد کی توقع ہے۔
تاہم، بیشتر متاثرین نے سرکاری کیمپوں کے بجائے رشتہ داروں یا کرائے کے گھروں میں رہائش کو ترجیح دی ہے، جبکہ صرف 600 کے قریب خاندان اس وقت کیمپوں میں مقیم ہیں۔
شمالی وزیرستان: انتظامیہ اور عوام دونوں مشکلات کا شکار
شمالی وزیرستان کی صورتحال دیگر اضلاع کے مقابلے میں زیادہ سنگین دکھائی دیتی ہے۔ یہاں سکیورٹی خطرات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ نہ صرف عام شہری بلکہ سرکاری افسران بھی شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
2 دسمبر 2025 کو اسسٹنٹ کمشنر شاہ ولی خان کو نامعلوم افراد نے شہید کر دیا تھا، جس کے بعد سرکاری افسران کی نقل و حرکت پر سخت سکیورٹی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ موجودہ حالات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ڈپٹی کمشنر یوسف کریم کئی روز سے بنوں میں موجود ہیں اور تاحال میران شاہ نہیں پہنچ سکے۔
دوسری جانب اتمانزئی قوم نے جرگے کے فیصلے کے تحت بنوں–میران شاہ روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی ہے، جس کے باعث علاقے میں معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔
خراب سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر 14 جنوری کو تمام ترقیاتی منصوبے بھی معطل کر دیے گئے۔ انتظامیہ نے نئے ٹینڈرز کے اجرا، ادائیگیوں اور جاری ترقیاتی کاموں پر پابندی عائد کر دی ہے، جس سے علاقے کی معاشی سرگرمیاں بھی جمود کا شکار ہو گئی ہیں۔
یہ تمام صورتحال واضح کرتی ہے کہ خیبر پختونخوا کے کئی علاقے ایک بار پھر غیر یقینی اور عدم استحکام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق محض سکیورٹی آپریشن مسائل کا مکمل حل نہیں ہو سکتا۔ متاثرین کی بروقت بحالی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کی بحالی بھی اتنی ہی اہم ہے۔
اگر حکومت سکیورٹی، بحالی اور ترقی تینوں پہلوؤں پر بیک وقت مؤثر توجہ دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو صوبے میں پائیدار امن کا قیام ممکن ہو سکتا ہے۔ بصورت دیگر یہ اقدامات وقتی ثابت ہوں گے اور مسائل ایک بار پھر سر اٹھا سکتے ہیں۔
