پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) سے لاکھوں روپے مالیت کے اہم کارڈیالوجی ڈسپوزیبلز چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس پر اسپتال انتظامیہ نے کنٹریکٹ ملازم ابو بکر کے خلاف پولیس کو تحریری درخواست جمع کرا دی ہے۔

 

مقدمہ متن کے مطابق اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعے سے متعلق باقاعدہ ایف آئی آر کے اندراج کے لیے پولیس کو درخواست دی گئی، جبکہ چوری شدہ سامان میں قیمتی اور حساس طبی ڈسپوزیبلز شامل ہیں۔ انتظامیہ نے سرکاری طبی وسائل کے ضیاع پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

 

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزم ابو بکر مستقل سرکاری ملازم نہیں بلکہ کنٹریکٹ پر تعینات تھا۔

 

 واقعے کی تحقیقات کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج، انوینٹری ریکارڈ اور دیگر متعلقہ دستاویزی شواہد پولیس کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔

 

اسپتال انتظامیہ کے مطابق واقعے میں دیگر افراد کی ممکنہ شمولیت کے پہلو کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے تفتیش کا دائرہ وسیع کرنے کی استدعا کی گئی ہے، جبکہ پولیس سے ملزم کی فوری گرفتاری اور چوری شدہ سامان کی جلد برآمدگی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

 

مقدمہ متن میں سرکاری طبی وسائل کی چوری کو عوامی مفاد کے خلاف سنگین جرم قرار دیتے ہوئے سخت قانونی کارروائی پر زور دیا گیا ہے۔ 

 

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے پر قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں گی۔