پشاور میں چوہوں کی تعداد میں اضافے اور چوہوں کے کاٹنے کے واقعات کے باعث پشاور ہائی کورٹ کی گرین بینچ میں عوامی مفاد کی ایک درخواست دائر کر دی گئی ہے، جس میں اس صورتحال کو عوامی صحت سے متعلق مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔

 

درخواست میں بتایا گیا ہے کہ ورسک روڈ، چارسدہ روڈ، بشیر آباد، فاٹا سیکرٹریٹ کالونی اور ملحقہ علاقوں میں چوہوں کی موجودگی کے باعث شہریوں کو مسائل کا سامنا ہے، جبکہ متعلقہ اداروں کی جانب سے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔

 

یہ درخواست محمد فرقان قاضی ایڈووکیٹ، علیشبہ خان ایڈووکیٹ، علاقہ مکین عبیداللہ اور لقمان الدین کے علاوہ سینئر صحافی لہاظ اللہ (نیو نیوز) اور شاہ فہد (دنیا نیوز) کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔

 

درخواست گزاروں کی نمائندگی سینئر وکیل سیف اللہ محب کاکاخیل ایڈووکیٹ، سپریم کورٹ آف پاکستان نے کی۔ عدالت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ناقص صفائی، کچرے کے ڈھیر، کھلے نالے، ٹوٹا ہوا سیوریج نظام اور متعلقہ اداروں کی غفلت کے باعث چوہوں کی افزائش میں اضافہ ہوا ہے، جو عوامی پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔

 

عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ یہ مسئلہ صرف ایک علاقے تک محدود نہیں بلکہ یونین کونسل کمبوہ، سربلند پورہ  میں بھی چوہوں کی تعدا میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں نکاسی آب کے نظام کے بعد صورتحال مزید بگڑی۔ اہلِ علاقہ کے مطابق بارہا زہر اور ادویات کے استعمال کے باوجود چوہوں پر قابو نہیں پایا جا سکا۔

 

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ اس صورتحال سے ڈبلیو ایس ایس پی کی کارکردگی پر سوالات اٹھتے ہیں اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔