خیبر پختونخوا کی 40 خواجہ سراؤں کو یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور کے تحت بیوٹیشن ٹریننگ دی گئی، لیکن پانچ ماہ گزرنے کے باوجود انہیں وعدہ کردہ 73 ہزار روپے ادا نہیں کیے گئے۔

 

منزل فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور خیبر پختونخوا خواجہ سراؤں کی صدر ارزو خان نے بتایا کہ انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچر ڈیویلپمنٹ اور خیبر پختون رورل اکنامک ٹرانسفارمیشن پراجیکٹ کے تعاون سے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور کے تحت  یہ ٹریننگ کروائی گئی تھی۔

 

 انہوں نے کہا کہ ٹریننگ کے اختتام پر نہ صرف سرٹیفیکیٹ ملنے کا وعدہ کیا گیا تھا بلکہ ہر خواجہ سرا کو 73 ہزار روپے بھی دئیے جانے تھے، جو آج تک ادا نہیں کیے گئے۔

 

ارزو خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنا قیمتی وقت دے کر سکل ڈیویلپمنٹ پراجیکٹ میں حصہ لیا اور اپنے خرچ پر 10 روز تک ٹریننگ کے لیے گاڑیاں بھی مقرر کیں، لیکن پروگرام کے ذمہ داران، جن میں صبا، ڈاکٹر شہزاد اور ڈاکٹر زبیر شامل ہیں، تعاون کرنے کی بجائے رقم اپنی جیب میں رکھ گئے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ اب وہ حلال رزق کمانے کی جدوجہد میں ہیں اور ڈانس پارٹیوں و دیگر پروگرامز کو بند کر دیا ہے، لیکن اس کے باوجود انہیں ان کا حق نہیں دیا جا رہا۔

 

 انہوں نے پنجاب کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں خواجہ سراؤں کے لیے متعدد پروگرام کامیابی سے جاری ہیں اور وہ آرام سے روزگار حاصل کر رہی ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔

 

ارزو خان نے اعلان کیا کہ آج سے وہ حیات آباد میں متعلقہ ادارے کے سامنے تین روز تک احتجاج کریں گی اور اداروں کو مجبور کریں گی کہ وہ خواجہ سراؤں کو ان کا حق ادا کریں۔