خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صوبائی ایپکس کمیٹی نے اہم فیصلے کیے ہیں۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے صوبائی حکومت، وفاقی حکومت، سیاسی جماعتیں اور عوام سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

 

اجلاس میں بتایا گیا کہ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں بہتری لانے کے لیے خصوصی پیکج دیا جائے گا۔ ان علاقوں میں سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ سڑکیں، صحت، تعلیم، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ لوگوں کی مشکلات کم ہوں۔

 

یہ بھی پڑھیے:  خیبرپختونخوا: ماحول دوست سیاحت کے فروغ کے لیے ٹھنڈیانی انٹیگریٹڈ ٹورازم زون کنسیشن معاہدے پر دستخط

 

کمیٹی نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ جن علاقوں سے لوگ عارضی طور پر بے گھر ہوئے ہیں، ان کی بحالی اور باعزت واپسی کو یقینی بنایا جائے گا۔ حکومت متاثرہ خاندانوں کیڑ دیکھ بھال اور بنیادی ضروریات پوری کرے گی۔

 

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ امن حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سول حکومت، انتظامیہ، پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف کام کر رہے ہیں اور یہ جنگ ہم سب کو مل کر لڑنی ہے۔

 

کمیٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں پاک فوج، پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر ادارے پوری قوت کے ساتھ کردار ادا کریں گے اور اس مقصد کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جائیں گے۔ 

 

حکومت کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے اصل اسباب کو ختم کیے بغیر دیرپا امن ممکن نہیں، اس لیے ان وجوہات پر بھی توجہ دی جائے گی۔

 

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ امن حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سول حکومت، انتظامیہ، پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف کام کر رہے ہیں اور یہ جنگ ہم سب کو مل کر لڑنی ہے۔

 

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس میں صوبائی وزرا، کور کمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے آغاز میں دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔