خیبر پختونخوا اسمبلی میں موبائل ٹاورز کی مسلسل بندش اور کم سگنل کا مسئلہ زیرِ بحث آیا، جس پر اراکینِ اسمبلی نے موبائل کمپنیوں کی کارکردگی پر تنقید کی۔
یہ معاملہ رکنِ صوبائی اسمبلی محمد عثمان نے اسمبلی اجلاس میں اٹھایا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو برسوں سے ضلع ٹانک بالخصوص گومل سرکل، بیٹنی سرکل اور دیگر دیہی علاقوں میں موبائل ٹاورز بند پڑے ہیں، جس کے باعث مقامی آبادی کو رابطے اور روزمرہ امور میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے متعلقہ حکام کو متعدد بار آگاہ کیا گیا، تاہم مسئلہ تاحال حل نہیں ہو سکا۔
ایم پی اے ملک لیاقت نے محمد عثمان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں یا تو موبائل ٹاورز بند ہیں یا کم سگنل فراہم کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اینڈرائیڈ صارفین ہوشیار، زیرو ڈے سائبر حملوں کا انکشاف
رکن اسمبلی ارشد ایوب نے ایوان کو بتایا کہ یہ مسئلہ مختلف اضلاع میں موجود ہے۔ ان کے مطابق جن ٹاورز سے موبائل کمپنیاں زیادہ منافع حاصل کر رہی ہیں وہاں سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، تاہم کم منافع والے علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے دوران جنریٹر استعمال نہیں کیے جاتے، جس کے باعث بجلی بند ہوتے ہی سگنل ختم ہو جاتے ہیں۔
ایم پی اے انور خان نے کہا کہ اپر دیر میں گزشتہ دو برسوں سے موبائل سگنل کا مسئلہ درپیش ہے۔ ان کے مطابق علاقے کی بڑی تعداد بیرونِ ملک مقیم ہے جو اپنے اہلِ خانہ سے رابطہ نہیں کر پا رہی۔ انہوں نے کہا کہ موبائل کمپنیوں کو ٹاورز کی مسلسل فعالیت یقینی بنانی چاہیے۔
اس موقع پر اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو ہدایت کی کہ موبائل کمپنیوں کے حکام کو طلب کر کے اس معاملے پر اقدامات کیے جائیں۔ بعد ازاں یہ معاملہ متعلقہ اسٹینڈنگ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔
