وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی بحالی اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ متاثرین کی بروقت اور آسان رجسٹریشن کو یقینی بنانے کے لیے مزید چار رجسٹریشن پوائنٹس فعال کر دیے گئے ہیں، جبکہ نقل مکانی کا عمل بھی بدستور جاری ہے۔
دوسری جانب اسسٹنٹ کمشنر باڑہ طلحہ رفیق نے بتایا کہ اب تک وادی تیراہ کے تقریباً نو ہزار خاندانوں کی رجسٹریشن مکمل کی جا چکی ہے۔
ان کے مطابق باڑہ میں قائم چار رجسٹریشن پوائنٹس پر آج مجموعی طور پر 1050 خاندانوں کی رجسٹریشن کی گئی، جن میں تکیہ پوائنٹ برقمبر خیل پر 461، قمبر آباد شلوبر پر 257، بادشاہ خان سکول ملک دین خیل پر 267 اور پائندہ چینہ ذخہ خیل پر 332 خاندان شامل ہیں، جبکہ گزشتہ روز انہی پوائنٹس پر 866 خاندانوں کی رجسٹریشن کی گئی تھی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ قبیلہ کمر خیل اور آدم خیل کے لیے نئے رجسٹریشن پوائنٹس آج سے فعال کیے جا رہے ہیں تاکہ رجسٹریشن کے عمل میں مزید تیزی لائی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: تیراہ آپریشن: وفاق صوبے پر ملبہ ڈال رہا ہے، شفیع جان
اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق وادی تیراہ میدان لرباغ سے پائندہ چینہ اور باڑہ تک مرکزی شاہراہ کو کلیئر کر دیا گیا ہے، برف ہٹا دی گئی ہے اور نقل مکانی کے لیے راستہ کھول دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لرباغ سے پائندہ چینہ تک چند مقامات پر گاڑیوں کو مشکلات کا سامنا رہا، تاہم ضلعی انتظامیہ نے ٹریکٹرز اور ایکسکیویٹرز تعینات کر رکھے ہیں جو متاثرین کی گاڑیوں کو نکالنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ برف باری کے باعث راستوں میں پھنسے تمام افراد اور گاڑیوں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں اسسٹنٹ کمشنر باڑہ نے بتایا کہ مزید برف باری کے امکان کے پیش نظر نقل مکانی کے عمل کی ڈیڈ لائن پانچ فروری تک بڑھا دی گئی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کسی کو زبردستی نہیں روکا گیا اور نقل مکانی رضاکارانہ بنیادوں پر جاری ہے۔ متاثرین کو راستے میں تیار خوراک فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ لرباغ میں امدادی سامان سے بھرا ٹرک بھی پہنچا دیا گیا ہے۔
دوسری جانب وادی تیراہ میں امن و امان کی صورتحال اور متاثرین کی بڑھتی ہوئی نقل مکانی کے پیش نظر باڑہ میں ایک نمائندہ جرگہ منعقد ہوا، جس کی صدارت سابق وفاقی وزیر حمیداللہ جان آفریدی نے کی۔ جرگے میں سیاسی، سماجی اور قبائلی رہنماؤں نے شرکت کی اور متفقہ اعلامیہ جاری کیا۔

جرگے کے اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ متاثرینِ تیراہ کی مکمل اور شفاف رجسٹریشن یقینی بنائی جائے، سیاسی مداخلت کا خاتمہ کیا جائے اور مزید نقل مکانی کو روکا جائے۔
اعلامیے میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ یکم اپریل سے متاثرین کی واپسی کے وعدے پر عمل درآمد کیا جائے اور آپریشن کے دوران ہونے والے مالی و جانی نقصانات کا منصفانہ معاوضہ ادا کیا جائے۔
جرگے نے مطالبہ کیا کہ باڑہ اور تیراہ دونوں کو متاثرہ علاقے قرار دیا جائے، بند راستے فوری طور پر کھولے جائیں، خوراک اور دیگر ضروری اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور رجسٹریشن کے دوران تقسیم کی گئی رقوم کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔
جرگہ ذرائع کے مطابق آٹھ فروری کو ایک بڑا اجلاس منعقد کیا جائے گا، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
اس دوران سابق وزیرِ داخلہ اور رکنِ قومی اسمبلی شہریار آفریدی، ایم این اے اقبال آفریدی، ایم این اے شاندانہ گلزار، ایم پی اے عبدالغنی آفریدی اور ایم پی اے شیر علی آفریدی نے تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے متاثرین کے لیے قائم آئی ڈی پیز کیمپس کا دورہ کیا۔
انہوں نے متاثرین سے ملاقات کی، ان کی صورتحال کا جائزہ لیا اور یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت متاثرین کو طبی سہولتوں، خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
اس موقع پر متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ امدادی سرگرمیوں میں تیزی لائی جائے اور سہولتوں کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت نہ برتی جائے۔
