خیبر پختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے بنیادی طبی سہولیات کی شدید کمی کا انکشاف ہوا ہے، جہاں صوبے بھر میں بیڈز اور خاص طور پر آئی سی یو بیڈز کی کمی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔
محکمہ صحت کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں مجموعی طور پر صرف 36 ہزار 40 بیڈز موجود ہیں، جس کے نتیجے میں صوبے میں اوسطاً 1,133 افراد کے لیے صرف ایک بیڈ دستیاب ہے، جو عالمی معیار کے مقابلے میں انتہائی کم اور تشویشناک ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق صوبے کے 10 میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز (ایم ٹی آئی) ہسپتالوں میں بیڈز کی مجموعی تعداد 10 ہزار 832 ہے۔ آبادی کے تناسب سے ایم ٹی آئی اسپتالوں میں اوسطاً 377 افراد کے لیے صرف ایک بیڈ دستیاب ہے، جس کی وجہ سے ان ہسپتالوں پر مریضوں کا دباؤ غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق ایم ٹی آئی ہسپتالوں میں آئی سی یو بیڈز کی کل تعداد صرف 313 بیڈز ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ صوبے میں 1 لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد کے لیے صرف ایک آئی سی یو بیڈ دستیاب ہے، جو ایمرجنسی اور سنگین مریضوں کے لیے ایک خطرناک صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ صوبے میں کیٹیگری ڈی کے 63، کیٹیگری بی کے 13 اور کیٹیگری سی کے 26 سرکاری اسپتال موجود ہیں، جبکہ دیہی علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے 137 رورل ہیلتھ سینٹرز (آر ایچ سیز) کام کر رہے ہیں۔ تاہم آبادی کے تناسب سے یہ سہولیات کافی نہیں ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں ہر ایک ہزار آبادی کے لیے کم از کم 4 سے 5 بیڈز دستیاب ہونا ضروری ہے، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں 10 ہزار افراد کے لیے 1 ہزار بیڈز کا ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ان معیارات کے مقابلے میں خیبر پختونخوا میں موجود سہولیات نہایت محدود ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بیڈز اور آئی سی یو سہولیات کی کمی نہ صرف مریضوں کو شدید مشکلات میں ڈال رہی ہے بلکہ ہسپتالوں میں علاج کے معیار کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ اس لیے فوری حکومتی توجہ اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔
