وفاق اور خیبر پختونخوا آمنے سامنے
وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا کے درمیان اختیارات، وسائل اور سیکیورٹی پالیسی پر اختلافات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔ سب سے سنگین تنازع امن و امان کے معاملے پر ہے، جہاں صوبائی حکومت اور وفاق کسی مشترکہ لائحہ عمل پر متفق نظر نہیں آتے۔ اس اختلاف نے نہ صرف قبائلی اضلاع کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے بلکہ سیاسی بیانیے کو بھی تلخ کر دیا ہے۔
صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ سابقہ فاٹا کے انضمام کے بعد قبائلی اضلاع کے لیے جو مالی وعدے کیے گئے تھے، وہ تاحال پورے نہیں ہوئے۔ این ایف سی ایوارڈ اور دیگر وفاقی ذرائع سے آنے والے فنڈز میں تاخیر اور کمی کے باعث ترقیاتی منصوبے متاثر ہو رہے ہیں۔
صوبائی حکومت 1300 ارب روپے سے زائد کے بقایاجات کا دعویٰ رکھتی ہے، جبکہ وفاق اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ قبائلی اضلاع میں ترقیاتی منصوبے بری طرح متاثر ہیں، جبکہ وہاں کے جاری اخراجات پورے کرنے کے لیے صوبائی حکومت کو بندوبستی اضلاع کا بجٹ استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔
دوسری جانب صوبائی حکام کی یہ شکایت بھی ہے کہ خیبر پختونخوا کو مجموعی طور پر وفاقی ترقیاتی فنڈز دیگر صوبوں کے مقابلے میں کم مل رہے ہیں، جس سے صوبے پر مالی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
امن و امان اور آپریشن کا تنازع
وفاقی بیانیہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں سخت فیصلے ناگزیر ہیں۔ وفاقی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ صوبائی حکومت کسی بڑے آپریشن سے گریز کر رہی ہے کیونکہ اسے سیاسی نقصان اور عوامی ردعمل کا خدشہ ہے۔
قومی اسمبلی میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبائی حکومت اس ڈر سے آپریشن کو تسلیم نہیں کر رہی کہ یہ عوامی نیشنل پارٹی نہ بن جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اندرونی اجلاس کی پوری کہانی معلوم ہے اور وقت آنے پر پردہ اٹھائیں گے۔
اس کے برعکس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ وہ کسی نئے فوجی آپریشن کے حامی نہیں اور امن کا حل طاقت کے بجائے سیاسی اور انتظامی اقدامات میں دیکھتے ہیں۔
جہاں تیراہ میں آپریشن کے باعث لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں، وہیں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے تیراہ کا دورہ کرتے ہوئے آپریشن کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ کارروائی ان کی مرضی اور اجازت کے بغیر زبردستی کی جا رہی ہے، جس کا اعتراف ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز نے بھی کیا ہے۔
ایکشن ان ایڈ آف سول پاور تاحال نافذ
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ذمہ داری سنبھالتے ہی وعدہ کیا تھا کہ ایکشن ان ایڈ آف سول پاور قانون کو ختم کر دیا جائے گا۔ اس حوالے سے پہلے کابینہ اجلاس میں پیش رفت بھی ہوئی، تاہم اب تک یہ قانون ختم نہیں ہو سکا ہے۔
ایکشن ان ایڈ آف سول پاور دراصل وہ قانونی فریم ورک ہے جس کے تحت سول حکومت فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مدد طلب کرتی ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی نے یہ قانون 2018 میں مخصوص سیکیورٹی حالات کے تناظر میں منظور کیا تھا تاکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
اس سے قبل یہ قانون پیپلز پارٹی کے دور میں فاٹا میں نافذ کیا گیا تھا، جسے بعد ازاں پشاور ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا۔ تاہم خیبر پختونخوا حکومت نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی، جہاں سے حکم امتناعی جاری ہوا، جس کے باعث یہ قانون تاحال نافذ العمل ہے۔
اس قانون کے تحت سیکیورٹی فورسز کو مخصوص علاقوں میں گرفتاری، حراست اور تفتیش کے اختیارات حاصل ہیں، حراستی مراکز اور سیکیورٹی آپریشنز کو قانونی جواز دیا جاتا ہے، جبکہ سول انتظامیہ اور فوج کے کردار کو ایک فریم میں لایا جاتا ہے۔
تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں اس قانون پر اعتراض کرتی رہی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس سے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں اور شفافیت کا فقدان رہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ خیبر پختونخوا میں مسلسل سیکیورٹی خدشات ہیں۔ ریاستی اداروں کا مؤقف ہے کہ جب تک دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہوتا، ایسے قوانین کو واپس لینا سیکیورٹی خلا پیدا کر سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ پر الزامات اور تضحیک آمیز مہم
وزارتِ اعلیٰ کی کرسی سنبھالنے کے بعد سے محمد سہیل آفریدی کو تضحیک آمیز رویے کا سامنا ہے۔ ایک جانب بے نامی اکاؤنٹس سے ان کے خلاف جھوٹی ڈاکومنٹریز بنائی جا رہی ہیں، تو دوسری جانب پنجاب اور وفاقی حکومت کے بعض ذمہ داران نہ صرف سہیل آفریدی کے خلاف سخت زبان استعمال کر رہے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پختونوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا اور بعض سیاسی حلقوں میں ان پر اسمگلنگ، دہشت گردوں کو سہولت دینے اور دیگر سنگین الزامات لگائے جا رہے ہیں، جنہیں صوبائی حکومت بے بنیاد اور منظم سیاسی مہم قرار دیتی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق وزیراعلیٰ یا صوبائی حکومت کے پاس ہتکِ عزت کے دیوانی اور فوجداری مقدمات دائر کرنے کا اختیار موجود ہے۔ اس کے علاوہ جھوٹے الزامات پر سائبر کرائم قوانین کے تحت بھی کارروائی کی جا سکتی ہے، جبکہ سرکاری سطح پر وضاحتی بیانات اور شواہد پیش کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ اب تک صوبائی حکومت نے اس محاذ پر کوئی مضبوط قانونی قدم کیوں نہیں اٹھایا؟ مبصرین کے مطابق اس کی وجوہات میں سیاسی مصلحت، ادارہ جاتی دباؤ اور معاملے کو مزید نہ الجھانے کی حکمت عملی شامل ہو سکتی ہیں۔
وفاق اور خیبر پختونخوا کے درمیان یہ کشمکش محض سیاسی نہیں بلکہ آئینی، مالی اور سیکیورٹی نوعیت کی ہے۔ ایک طرف دہشت گردی کا دباؤ ہے، تو دوسری جانب عوامی اعتماد، انسانی حقوق اور صوبائی خودمختاری کے سوالات۔ جب تک امن و امان، فنڈز اور قانونی فریم ورک پر سنجیدہ اور مشترکہ حکمت عملی نہیں بنتی، یہ تنازعات وقتی بیانات سے آگے بڑھ کر مستقل بحران کی صورت اختیار کرتے رہیں گے۔
