جمرود: ضلع خیبر کی تحصیل جمرود میں قائم پاسپورٹ آفس میں خاتون اسٹاف کی عدم تعیناتی کے باعث خواتین شہریوں کو شدید مشکلات اور سماجی مسائل کا سامنا ہے۔ 

 

پاسپورٹ آفس یکم نومبر 2023 سے فعال ہے، تاہم تاحال خواتین کے لیے کوئی خاتون عملہ تعینات نہیں کیا جا سکا۔

 

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ضلع خیبر کی مجموعی آبادی 11 لاکھ 44 ہزار 270 ہے، جبکہ جمرود پاسپورٹ آفس نہ صرف تحصیل جمرود بلکہ پورے ضلع خیبر کی آبادی کو خدمات فراہم کر رہا ہے۔ جمرود پاسپورٹ آفس میں اب تک 85 ہزار سے زائد پاسپورٹس بنائے جا چکے ہیں، جس سے آفس پر عوامی دباؤ اور بڑھتی ہوئی ضرورت کا واضح اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

 

خاتون اسٹاف کی عدم موجودگی کے باعث خواتین کی تصاویر مرد اہلکاروں کے ذریعے لی جا رہی ہیں، جسے عوامی حلقوں نے مقامی روایات، پردے اور خواتین کے وقار کے منافی قرار دیا ہے۔

 

 شہریوں کا کہنا ہے کہ پشتون معاشرے میں خواتین کی عزت اور پردے کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، مگر سہولیات کی کمی کے باعث خواتین کو شدید ذہنی دباؤ اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

 

عوامی حلقوں کے مطابق ضلع خیبر کے شہری جب پاسپورٹ بنوانے کے لیے پشاور میگا پاسپورٹ سینٹر کا رخ کرتے ہیں تو انہیں یہ کہہ کر واپس بھیج دیا جاتا ہے کہ ان کا پاسپورٹ جمرود پاسپورٹ آفس میں بنایا جائے، جبکہ دوسری جانب جمرود آفس میں بنیادی سہولت، یعنی خاتون اسٹاف کی عدم موجودگی، ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وزیرِ داخلہ کی جانب سے واضح ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ پاسپورٹ پاکستان کے کسی بھی پاسپورٹ آفس سے بنایا جا سکتا ہے، مگر اس کے باوجود ضلع خیبر کے عوام کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔

 

اس صورتحال کے پیش نظر ضلع خیبر، بالخصوص جمرود کے مکینوں نے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی سے مطالبہ کیا ہے کہ جمرود پاسپورٹ آفس میں فوری طور پر خاتون اسٹاف تعینات کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں، تاکہ خواتین کو باعزت، محفوظ اور سہل انداز میں پاسپورٹ کی سہولت فراہم کی جا سکے۔

 

عوامی حلقوں نے امید ظاہر کی ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا اس اہم عوامی مسئلے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کریں گے اور ضلع خیبر کی خواتین کو درپیش اس دیرینہ مسئلے کا جلد از جلد حل ممکن بنایا جائے گا ۔