محکمہ خوراک خیبر پختونخوا نے صوبائی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں ویٹ ریلیز پالیسی 2026 نافذ کر دی ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں آٹے کی بلا تعطل فراہمی اور گندم کی قیمتوں میں استحکام یقینی بنانے کے لیے 1 لاکھ 36 ہزار میٹرک ٹن گندم جاری کی جائے گی۔
یہ مقدار فوڈ گرین گوداموں میں موجود کل ذخیرے کا 50 فیصد ہے، جس میں 61 ہزار 811 میٹرک ٹن پاسکو کی مقامی گندم اور 74 ہزار 189 میٹرک ٹن صوبائی سطح پر خریدی گئی گندم شامل ہے۔
محکمہ خوراک کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق گندم کی فراہمی صوبے کی تمام فعال فلور ملز کو فرسٹ اِن، فرسٹ آؤٹ کی بنیاد پر کی جائے گی۔
گندم کی سرکاری ریلیز قیمت 10 ہزار 414 روپے فی 100 کلو مقرر کی گئی ہے، جس میں باردانہ کی لاگت بھی شامل ہے۔ اس کے بدلے فلور ملز 20 کلو آٹے کا تھیلا ایکس مل ریٹ 2 ہزار 190 روپے جبکہ صارفین کو 2 ہزار 220 روپے میں فراہم کرنے کی پابند ہوں گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق تمام سرکاری آٹے کے تھیلوں پر سبز رنگ میں حکومت خیبر پختونخوا کا سرکاری مونوگرام، منظور شدہ ریٹ، وزن، تاریخِ پسائی، تاریخِ معیاد، مل کا نام اور کوڈ درج کرنا لازمی ہوگا۔
فلور ملز کو روزانہ کی بنیاد پر گندم کی وصولی، پسائی اور آٹے کی پیداوار کی تفصیلات جمع کروانا ہوں گی، بصورتِ دیگر انہیں آئندہ سرکاری گندم کی فراہمی سے محروم کیا جا سکے گا۔
محکمہ خوراک نے سرکاری گندم کے لیے 70:18:12 (آٹا، فائن، چوکر) کا تناسب بھی لازمی قرار دیا ہے۔ ہر ضلع کے لیے آبادی کی بنیاد پر یومیہ کوٹہ مقرر ہوگا، جو تمام فعال فلور ملز میں برابر تقسیم کیا جائے گا۔
کسی مل کی جانب سے کوٹہ نہ اٹھانے کی صورت میں باقی ماندہ مقدار اسی دن دیگر فعال ملز میں تقسیم کر دی جائے گی۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ صرف وہی فلور ملز سرکاری گندم کی اہل ہوں گی جن کے پاس درست فوڈ گرین لائسنس، سیکیورٹی ڈپازٹ، فعال واشنگ سسٹم اور تصدیق شدہ بجلی کی فراہمی موجود ہو۔ نادہندہ فلور ملز اور آٹا ڈیلرز، بالخصوص رمضان فری آٹا پیکج 2023 کے واجبات ادا نہ کرنے والے، کسی صورت سرکاری گندم یا آٹا حاصل نہیں کر سکیں گے۔
حکومت نے فوڈ گرین گوداموں اور فلور ملز میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اور آن لائن رپورٹنگ کو لازمی قرار دیا ہے۔
آٹا ڈیلرز کو بھی اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ سہولت کے ساتھ ایف ایم آئی ایس سسٹم پر اندراج کرنا ہوگا۔ ہر ڈیلر کو تحریری حلف نامہ جمع کروانا ہوگا کہ وہ سرکاری نرخ، معیار اور ہدایات کی مکمل پابندی کرے گا۔
قواعد کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے۔ اگر کوئی فلور مل سرکاری نرخ پر آٹا فراہم کرنے میں ناکام پائی گئی تو اس پر فی 100 کلو 20 ہزار 828 روپے جرمانہ، کوٹہ منسوخی اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اسی طرح آٹا ڈیلر کی خلاف ورزی پر فی 20 کلو 4 ہزار 440 روپے جرمانہ، کوٹہ منسوخی اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
محکمہ خوراک کے مطابق آٹے کی تقسیم اور فروخت جدید آئی سی ٹی نظام کے ذریعے ہوگی، اور ایک شہری چار دن کے اندر دوبارہ 20 کلو کا تھیلا حاصل کرنے کا اہل نہیں ہوگا۔
اس پالیسی پر عملدرآمد کی مشترکہ ذمہ داری ضلعی انتظامیہ اور محکمہ خوراک پر عائد کی گئی ہے، جبکہ ڈویژنل ڈپٹی ڈائریکٹرز شکایات کے ازالے اور نگرانی کے فرائض انجام دیں گے۔
محکمہ خوراک نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ویٹ ریلیز پالیسی 2026 کے تحت صوبے بھر میں مناسب نرخوں پر آٹے کی دستیابی یقینی بنائی جائے گی اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
