وقت اور حالات کے ساتھ ہماری زندگی کے انداز بدل گئے ہیں، اور خوراک کے انتخاب میں بھی نمایاں تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں۔ پہلے لوگ وہ کھاتے تھے جو ان کے بجٹ یا ذائقے کے مطابق ہوتا تھا، لیکن آج خوراک کا انتخاب صحت، فٹنس اور خوبصورتی کے معیار پر زیادہ منحصر ہے۔
خاص طور پر نوجوان نسل اور شوبز کے ستارے اپنی فٹنس اور ظاہری خوبصورتی برقرار رکھنے کے لیے نہ صرف پلاسٹک سرجری کرواتے ہیں بلکہ مختلف قسم کے ڈائٹس بھی فالو کرتے ہیں۔
آج ہم بات کریں گے ویگن ڈائٹ کے بارے میں، کہ یہ اصل میں کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتی ہے۔
ویگن ڈائٹ کیا ہے؟
ماہر غذائیت ساجد اقبال کے مطابق، ویگن ڈائٹ وہ غذا ہے جس میں صرف سبزیاں، تازہ پھل اور اناج شامل ہوتے ہیں۔ اس میں گوشت، مچھلی، انڈے، دودھ اور دودھ سے بنی اشیاء جیسے دہی، مکھن، لسی، پنیر اور گھی شامل نہیں ہوتے۔ آسان الفاظ میں، جو شخص ویگن ڈائٹ فالو کرتا ہے وہ مکمل سبزی خور ہوتا ہے۔
ویگن ڈائٹ میں سبزیوں کے طور پر پالک، گاجر، ٹماٹر، شلغم، پیاز، لہسن، شملہ مرچ اور بینگن کھائے جاتے ہیں۔ پھلوں میں کم فائبر والے پھل جیسے ناشپاتی، چھلا ہوا سیب، آم، مالٹا، آڑو، تربوز، خربوزہ اور چیری شامل کیے جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ دلیا، براون رائس، جو، چنا، دالیں، پھلیاں اور خشک میوہ جات جیسے بادام اور اخروٹ بھی ویگن ڈائٹ کا حصہ ہیں۔
ویگن ڈائٹ کے فوائد
ویگن ڈائٹ کے فوائد واضح ہیں۔ سبزیوں اور پھلوں سے بھرپور ہونے کی وجہ سے یہ غذا وٹامنز، آئرن اور دیگر ضروری غذائی اجزاء فراہم کرتی ہے۔ چونکہ مکھن اور گھی استعمال نہیں ہوتے، اس لیے کولیسٹرول کی سطح کم رہتی ہے اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔
ویگن ڈائٹ وزن برقرار رکھنے میں بھی مدد دیتی ہے، جس سے موٹاپے اور ذیابیطس کے مسائل کم ہوتے ہیں۔ بعض تحقیق کے مطابق یہ ڈائٹ کینسر کے خطرات کو کم کرنے میں بھی مؤثر ہو سکتی ہے۔
ویگن ڈائٹ کے نقصانات
تاہم ویگن ڈائٹ کے کچھ نقصانات بھی ہیں۔ گوشت، دودھ اور انڈے نہ کھانے کی وجہ سے جسم میں پروٹین اور آئرن کی کمی ہو سکتی ہے۔ اس سے ہڈیاں کمزور ہو سکتی ہیں اور ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ کچھ لوگوں میں سر درد، ذہنی کمزوری، تناؤ اور قبض جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔خاص طور پر عمر رسیدہ افراد کے لیے یہ ڈائٹ مناسب نہیں، کیونکہ ان کی صحت کے لیے متوازن غذائی اجزاء بہت ضروری ہیں۔
ویگن ڈائٹ کون لوگ اپناتے ہیں؟
ویگن ڈائٹ اپنانے والے لوگ مختلف وجوہات کی بنا پر یہ انتخاب کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنی فٹنس کو برقرار رکھنے کے لیے اسے اپناتے ہیں، کچھ لوگ فطری طور پر سبزی خور ہوتے ہیں اور گوشت یا انڈہ نہیں کھاتے، جبکہ کچھ افراد جانوروں اور ان سے حاصل شدہ مصنوعات سے پرہیز کرتے ہیں۔بعض افراد کے لیے یہ ڈائٹ صحت کے مسائل کی بنیاد پر ماہر غذائیت کی ہدایت پر اپنائی جاتی ہے۔
ماہر غذائیت کی رہنمائی ضروری ہے
ساجد اقبال کہتے ہیں کہ بغیر کسی پیشہ ور مشورے کے ویگن ڈائٹ اپنانا خطرناک ہو سکتا ہے۔ اگر پروٹین اور دیگر غذائی اجزاء کی کمی ہو جائے تو پٹھے اور ہڈیاں کمزور ہو سکتی ہیں اور بال گرنے لگ سکتے ہیں۔
اس لیے اگر کسی کو ویگن ڈائٹ کرنے کی ضرورت ہو تو ہمیشہ ماہر غذائیت کی رہنمائی میں کرنا چاہیے۔
ویگن ڈائٹ برقرار رکھنا چاہیے یا نہیں؟
ویگن ڈائٹ برقرار رکھنا یا نہ رکھنا ہر شخص کی صحت اور غذائی ضروریات پر منحصر ہے۔ اگر صحت مند ہیں اور تمام غذائی ضروریات پوری ہو رہی ہیں تو یہ ڈائٹ مفید ہو سکتی ہے۔
لیکن اگر جسم میں کمی یا صحت کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں تو فوراً ڈاکٹر یا ماہر غذائیت سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر کسی کو متوازن خوراک لینا چاہیے جس میں گوشت، مچھلی، سبزیاں، پھل اور اناج شامل ہوں۔ صحت کے مسائل کی صورت میں کسی بھی ڈائٹ کو اپنانے سے پہلے مستند ماہر غذائیت سے مشورہ لینا لازمی ہے۔
